تہران: ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایران کے خلاف معاشی جنگ جاری رکھی تو تہران خلیج فارس میں بحری اخراجی زون قائم کرسکتا ہے۔
محسن رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف معاشی جنگ کا جواب خلیج فارس میں ایسے علاقے تک بحری اخراجی زون قائم کرکے دیا جائے گا جہاں امریکی ناکا بندی کی حدود موجود ہیں۔ایرانی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ ایران نے حالیہ دنوں میں نئے میزائلوں کے ذریعے امریکا کو واضح پیغام دیا ہے۔ ان کے مطابق تہران نے امریکی جنگی بحری جہازوں اور فوجی اڈوں سے متعلق اپنی فوجی حکمت عملی میں بھی بنیادی تبدیلی کی ہے۔محسن رضائی کی یہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں بحری آمدورفت پہلے ہی کشیدگی سے متاثر ہے اور امریکا و ایران کے درمیان تناؤ برقرار ہے۔رائٹرز کے مطابق ایران کی جانب سے ایک نئے بحری پابندی والے علاقے کے قیام کی دھمکی بھی دی گئی ہے، جہاں داخل ہونے والے غیرمجاز بحری جہازوں کو پابندیوں یا کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں عالمی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق خلیج فارس میں کسی نئے بحری اخراجی زون کے قیام سے نہ صرف علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے بلکہ عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی پر بھی مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز کی بحری آمدورفت اور خطے میں تیل کی ترسیل عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے اہم ترین عوامل میں شامل ہیں۔