ادویات قیمتیں ، قائمہ کمیٹی صحت کا ان کیمر اجلاس بلانے کا فیصلہ

 معاملہ حساس ، ہارڈ شپ کیسز ،نئی رجسٹریشنز پر مبنی جامع رپورٹ بھی طلب 
 فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے منصوبے روک دئیے گئے ہیں :وزیر صحت 
 اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت نے وفاقی وزیر صحت کی درخواست پر ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق ان کیمر ہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا،کمیٹی کا اجلاس سینیٹر امیر ولی الدین چشتی کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے تحت اسلام آباد ڈینٹل ہسپتال کے انتظامی کنٹرول اور پمز ایکٹ 2023 کی شقوں پر بریفنگ دی گئی، جس کے تحت ای ڈی پمز کو انتظامی اختیارات د ئیے گئے ،کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس معاملے کی جانچ کے لئے محکمانہ کمیٹی تشکیل دی گئی ،وزارت کی کمیٹی کا اجلاس جلد ہوگا تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ بھٹو یونیورسٹی کا کنٹرول پمز کے پاس رہے گا یا کسی اور ادارے کے تحت ،قائمہ کمیٹی نے ادویات کی قیمتوں، ہارڈ شپ کیسز نئی رجسٹریشنز پر مبنی جامع رپورٹ بھی طلب کرلی ، وزیر صحت نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں کا معاملہ حساس ہے ، لہٰذا چیئرمین کمیٹی سے درخواست ہے کہ یہ معاملہ ان کیمرہ اجلاس میں زیر بحث لایا جائے، جس سے چیئرمین نے اتفاق کیا ،سینیٹر انوشہ ر حمن نے جامع ہیلتھ کیئر کارڈ متعارف کرانے کی تجویز دی ، انکا کہنا تھا کہ پمز پختونخوا ، آزاد کشمیر سے آنے والے مریضوں سے بھرا ہوا ، 3000 مریضوں کی گنجائش والے ہسپتال میں اب روزانہ 10 ہزار مریض آرہے ہیں، سینیٹر محمد ہمایوں مہمند نے کہا کہ معروف ڈاکٹر ہیلتھ کارڈ سسٹم کے مخالف ہیں کیونکہ ان کی کنسلٹنسی فیس زیادہ ہے، انہوں نے تجویز دی کہ پمز کو کسی اور انتظامی ادارے کے تحت دے دیا جائے، اجلاس میں سینیٹر سید مسرور احسن، محمد ہمایوں مہمند، دلاور خان، انوشہ ر حمن ، ثمینہ ممتاز زہری، ڈاکٹر زرقا سہروردی تیمور اور وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال سمیت وزارت کے حکام نے شرکت کی۔