ایک میچ میں چھ کیچ؛ یہ کیا کر ڈالا؛ اوہ ریکارڈ بنا ڈالا

ایک میچ میں چھ کیچ؛ یہ کیا کر ڈالا؛ اوہ ریکارڈ بنا ڈالا

ویب ڈیسک:پاکستان کے وکٹ کیپر محمد رضوان نے آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ون ڈے میچ میں چھ کیچ لے کر ایک میچ میں سب سے زیادہ کیچ لینے کا ریکارڈ برابر کر دیا۔

 اس کے ذریعے رضوان نے کرکٹ کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل عبور کیا، کیونکہ اس سے قبل ایڈم گلکرسٹ، مارک باؤچر، جوز بٹلر اور سرفراز احمد جیسے بڑے کھلاڑی ایک میچ میں چھ کیچ لینے کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔تاہم، رضوان ایک اور کیچ ڈراپ کر کے ورلڈ ریکارڈ بنانے کے گولڈن چانس سے محروم ہو گئے۔ وہ ایڈم زیمپا کا کیچ نہ لے پائے، جسے اگر وہ پکڑ لیتے تو وہ ایک ہی میچ میں سات کیچ لینے کا نیا ورلڈ ریکارڈ قائم کر سکتے تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ رضوان نہ صرف ایک منفرد ریکارڈ کے قریب پہنچے بلکہ انہوں نے اس موقع کو ضائع بھی کر دیا۔

یہ بات دلچسپ ہے کہ ایڈم گلکرسٹ اور مارک باؤچر جیسے وکٹ کیپرز نے بھی ایک میچ میں چھ کیچ لیے ہیں، لیکن ساتواں کیچ کبھی ان کے ہاتھ نہیں آیا۔ رضوان کو یہ موقع ملا تھا، لیکن وہ اسے پکڑنے میں ناکام رہے، جس کے بعد یہ بات کرکٹ فینز اور خود رضوان کے لیے تا دیر افسوس کا باعث بنے گی۔موجودہ عالمی ریکارڈ "ایک میچ میں چھ کیچ" کئی بڑے کھلاڑیوں کے نام پر درج ہے، اور رضوان کا چھ کیچوں کا ریکارڈ کرکٹ کی تاریخ میں ساتویں بار درج کیا گیا، مگر ساتواں کیچ ڈراپ کر کے رضوان نے نہ صرف ایک نیا ریکارڈ بنانے کا موقع گنوا دیا بلکہ یہ یادگار لمحہ بھی کھو دیا۔

پاکستان نے ایڈیلیڈ میں کھیلے جانے والی تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کے دوسرے میچ میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلیا کو 163 رنز پر آؤٹ کر دیا، جس کے نتیجے میں پاکستان نے میچ میں کامیابی حاصل کی۔ اس میچ میں حارث رؤف اور محمد رضوان کی شاندار کارکردگی نے آسٹریلیش بیٹنگ لائن کو تباہ کر دیا۔ حارث رؤف نے اہم موقعوں پر وکٹیں حاصل کیں، جبکہ رضوان نے وکٹوں کے پیچھے عمدہ فیلڈنگ کا مظاہرہ کیا۔

ٹاس اور بیٹنگ کا فیصلہ: پاکستان کے کپتان محمد رضوان نے ٹاس جیت کر آسٹریلیا کو پہلے بیٹنگ دینے کا فیصلہ کیا۔ رضوان کا یہ فیصلہ درست ثابت ہوا کیونکہ پاکستانی بولرز نے اس فیصلے کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ حارث رؤف کی شاندار بولنگ اور دیگر بولرز کی معاونت سے آسٹریلیا کی ٹیم 163 رنز پر آل آؤٹ ہو گئی۔ پاکستانی بولرز نے اپنے حریف کو ابتدائی اوورز میں ہی دباؤ میں لے لیا اور وکٹیں مسلسل گرتی رہیں۔

آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن: آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن اس میچ میں پاکستانی بولنگ کے سامنے مشکلات کا شکار رہی۔ شروع میں وکٹیں گرنے کے بعد آسٹریلیا کے مڈل آرڈر بیٹنگ لائن بھی زیادہ دیر تک مشکلات کا سامنا نہ کر سکی اور پوری ٹیم 163 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ حارث رؤف نے 4 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ دیگر بولرز نے بھی بہترین کارکردگی دکھائی۔

پہلا میچ: یاد رہے کہ اس سے پہلے ہونے والے پہلے میچ میں پاکستان نے بیٹنگ کرتے ہوئے 204 رنز کا چھوٹا سکور بنایا تھا، جسے آسٹریلیا نے دو وکٹوں سے بآسانی عبور کر لیا۔ اس میچ میں پاکستان کی بیٹنگ لائن توقعات پر پورا نہ اُتر سکی تھی اور وہ کم سکور پر آؤٹ ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں آسٹریلیا نے میچ جیت لیا۔ تاہم، دوسرے میچ میں پاکستان کی بولنگ نے آسٹریلیا کی بیٹنگ کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔

پاکستان کی جیت: پاکستان کی یہ جیت اس سیریز میں نہایت اہمیت رکھتی ہے۔ حارث رؤف کی عمدہ بولنگ اور محمد رضوان کی وکٹوں کے پیچھے شاندار کارکردگی نے پاکستان کو فتح دلائی۔ اس میچ میں پاکستان کی بولنگ نے وہ کردار ادا کیا جو پہلے میچ میں بیٹنگ لائن نہ کر سکی۔ اس جیت نے پاکستانی کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھایا اور اب سیریز برابر ہوگئی ہے۔

پاکستانی ٹیم اس جیت کے بعد اعتماد کے ساتھ سیریز کے تیسرے میچ میں حصہ لے گی، جہاں ان کی نظریں سیریز جیتنے پر ہوں گی۔