ایران کا وار ،4امریکی دفاعی نظام تباہ
24 گھنٹوں کے دوران امریکی تھاڈ اینٹی میزائل دفاعی نظام سے منسلک 4 ریڈار تباہ کردیے، ایرانی پاسدارن انقلاب،اپنے دفاع میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے جائز اقدام ہے، ایرانی وزیر خارجہ،روسی صدر نے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے سربراہی اجلاس بلانے کی تجویز
لاہور ، تہران ( مانیٹرنگ ڈیسک )ایران کا وار ،4امریکی دفاعی نظام تباہ کر دئیے ،امریکا کا ایران کے ایٹمی مواد پر قبضے کیلئے سپیشل فورسز بھیجنے پر غور، واشنگٹن، نیویارک اور کیلی فورنیا جنگ مخالف مظاہرے شروع ہو گئے ، اسرائیلی عوام حکومت سے ایران جنگ پر سوال کرنے لگے، ، ایرانی پاسدارن انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ 24 گھنٹوں کے دوران امریکی تھاڈ اینٹی میزائل دفاعی نظام سے منسلک 4 ریڈار تباہ کردیے امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران کے ایٹمی مواد پر قبضہ کرنے کے لیے اسپیشل فورسز بھیجنے کا جائزہ لے رہا ہے۔ امریکا اور اسرائیل نے ایران میں موجود انتہائی افزودہ یورینیئم کے ذخیرے کو محفوظ بنانے کے لیے اسپیشل فورسز بھیجنے کے امکان پر بات چیت کی ہے۔ اس سے قبل امریکی میڈیا نے جمعے کو دعویٰ کیا تھا کی امریکی صدر مخصوص اہداف کے لیے فوجی ایران بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ انتظامیہ دو امکانات پر غور کر رہی ہے، ایک یورینیئم کو مکمل طور پر ایران سے باہر منتقل کر دیا جائے یا جوہری ماہرین کو وہاں بھیج کر اسی مقام پر اسے کم افزودہ کر دیا جائے۔ اس مشن میں اسپیشل فورسز کے ساتھ سائنس دان بھی شامل ہو سکتے ہیں جن میں ممکنہ طور پر عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ماہرین بھی ہوسکتے ہیں۔ ایران پر جنگ مسلط کرنے کے خلاف امریکا میں لوگ سڑکوں پر نکل ا?ئے، واشنگٹن، نیویارک اور کیلی فورنیا میں ایران جنگ کے خلاف بھرپور احتجاج کیا گیا۔خبر ایجنسی کے مطابق مظاہرین نے ایران پر بمباری روکنے کے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، ایران کے خلاف جنگ بند کرنے کے نعرے بھی لگائے گئے۔ مظاہرین نے ایرانی عوام کو اپنا مستقبل خود طے کرنے کا حق دینے کا مطالبہ کیا۔دوسری جانب روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ اب وہ وقت آگیا کہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کا سربراہی اجلاس بلایا جائے۔روسی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ روسی صدر نے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے سربراہی اجلاس بلانے کی تجویز دی تھی۔