ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر قید کی سزائیں ختم

گورنر پنجاب نے شہریوں پر بھاری بھرکم جرمانوں والا پرانا آرڈیننس منسوخ کردیا جرمانوں میں بھی کمی ہو گئی
 لاہور ( کرائم رپورٹر) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے صوبائی موٹر وہیکل (دوسری ترمیم) بل 2026ء پر دستخط کر دیئے ہیں، جس کے نتیجے میں صوبے بھر میں ٹریفک جرمانوں میں غیر معمولی کمی کردی گئی اور قید کی سزائیں ختم ہو گئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے، اس فیصلے کا مقصد مہنگائی کے مارے عوام، بالخصوص موٹر سائیکل سواروں اور رکشہ ڈرائیوروں کو بھاری جرمانوں کے بوجھ سے نجات دلانا ہے، گورنر پنجاب کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی ایک عوامی جماعت ہے اور ہم عوام پر مزید مالی بوجھ ڈالنے کے حق میں نہیں ہیں۔بتایا گیا ہے کہ نئے قانون کے تحت ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق خلاف ورزی پر پہلے 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے جرمانہ اور قید کی سزا تھی، جسے کم کرکے اب 5 ہزار سے 10 ہزار روپے کر دیا گیا ہے، قید کی سزا مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے، ون وے کی خلاف ورزی پر پہلے 50 ہزار روپے جرمانہ یا 6 ماہ قید یا دونوں سزائیں تھیں، اب صرف 5 ہزار روپے جرمانہ رکھا گیا ہے، قید ختم کر دی گئی۔معلوم ہوا ہے کہ عمر کی حد کی خلاف ورزی پر پہلے 6 ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ تھا، جسے نئے قانون میں کم کر کے 10 ہزار روپے کر دیا گیا ہے، اب ایسی صورت میں گاڑی ضبط کرکے کسی لائسنس یافتہ فرد کے حوالے کی جائے گی، بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ گاڑی چلانے پر پہلے 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے جرمانہ اور قید کی سزا تھی، جسے کم کرکے 5 ہزار روپے جرمانہ کر دیا گیا ہے اور گاڑی کو صرف انسپیکشن سٹیشن تک لے جانے کی اجازت ہوگی، پبلک سروس گاڑیوں میں زائد مسافر بٹھانے پر بھی پہلے 50 ہزار روپے جرمانہ یا 6 ماہ قید تھی، اب اسے کم کرکے 5 ہزار روپے جرمانہ کر دیا گیا ہے، یہ اطلاق خاص طور پر گاڑیوں کی چھت پر سوار یا اطراف سے لٹکنے والے مسافروں پر بھی ہوگا۔بتایا جارہا ہے کہ گورنر پنجاب نے سابقہ سخت گیر 'پروونشل موٹر وہیکل فورتھ امینڈمنٹ آرڈیننس 2025' کو مکمل طور پر منسوخ کر دیا ہے، سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ پہلے سے نافذ العمل قانون میں جرمانے اتنے زیادہ تھے کہ ایک غریب آدمی کے لیے انہیں ادا کرنا ناممکن تھا، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی ہے اور قید کی سزا ئوں کے خاتمے سے عام شہریوں کو ہراساں کیے جانے کا راستہ بھی بند ہوگا