تصور حسین شہزاد
پنجاب میں صحت کی سہولتوں کیلئے وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے بلندو بانگ دعوے کیے جاتے ہیں کہ حکومت نے ہسپتالوں کو مثالی بنا دیا ہے۔ ادویات مفت دی جا رہی ہیں اور شہری بہت خوش ہیں۔ ہسپتالوں میں فلیکسز آویزاں کئے گئے ہیں کہ یہاں ادویات مفت ملتی ہیں اور مفت دوائیں نہ ملنے کی صورت میں ’’مریم کو بتائیں‘‘۔ ساتھ ہی اگر آپ کسی مریض کو لیکر ہسپتال گئے ہیں، تو وزیراعلیٰ مانیٹرنگ سیل سے ایک کال بھی آجائے گی اور پوچھا جائے گا کہ آپ نے ہسپتال کا وزٹ کیا، اپ کو ہسپتال میں کس قسم کے رویے کا سامنا کرنا پڑا؟ آپ کو ادویات مفت ملیں؟ ہسپتال کے عملے کا رویہ کیسا تھا؟ وغیرہ وغیرہ۔ یہ بہت خوبصورت سسٹم ہے۔ خدا کرئے کہ ایسا ہو جائے۔ مگر ایسا کچھ بھی نہیں۔ کسی ہسپتال میں مفت دوائیں نہیں ملتیں۔ بلکہ جہاں مفت ادویات ملنے کا فلیکس لگا ہوتا ہے، عین اس کے نیچے بیٹھا ڈاکٹر کہہ رہا ہوتا ہے، ہمارے پاس کوئی دوا نہیں، آپ باہر سے لے آئیں، یہ صرف فلیکس کی حد تک ہے، اس کو دیکھ کر خوش نہ ہوں۔ یہ ڈاکٹر اتنی ڈھٹائی کیساتھ کہہ رہا ہوتا ہے کہ جس سے واقعی سچ کا کمان ہوتا ہے، یہ کنفیڈنس صرف اس صورت ہی آتا ہے جب انسان سچا ہو۔ ڈاکٹر سچ ہی بول رہا ہوتا ہے کہ ہمیں تو ادویات فراہم نہیں کی گئیں، آپ کو کیا دیں؟ سروسز ہسپتال لاہور کا ایک بڑا ہسپتال ہے۔ یہاں میرے دوست یاسرعلی کیساتھ افسوسناک واقعہ پیش آیا کہ عملے کی مبینہ غفلت سے ان کی چودہ روز کی بھتیجی خالق حقیقی کے پاس لوٹ گئی۔ یاسر علی کے بقول سروسز ہسپتال میں یہ حالت ہے کہ بچوں کے آئی سی یو میں ڈیوٹی پر فقط ایک جونیئر ڈاکٹر اور ایک سٹاف نرس ہوتی ہے۔ والدین کو بچوں کے پاس رکنے کی اجازت نہیں، والدین کو کچھ وقفے کے بعد اندر جانے دیا جاتا ہے، ہر بار اندر جانے پر معلوم ہوتا ہے کہ کبھی آکسیجن اتری ہوئی ہے تو کبھی کوئی آئی وی لائن اتری پڑی ہے۔ والدین کی نشاندہی پر عملہ ایکٹو ہوتا ہے پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ یاسر علی کہتے ہیں آکسیجن نہ ملنے سے ایک بچی کا انتقال ہو گیا۔ بچی کی والدہ پیمپر بدل کر آئی تھی، تو سب ٹھیک تھا۔ اس کے بعد آکسیجن یا کوئی اور لائن اتری جسے مانیٹر نہیں کیا گیا۔ آدھے گھنٹے بعد والد دیکھنے گیا تو بچی بے سدھ ہو چکی تھی۔ پمپنگ اور وینٹیلیٹر کا ڈرامہ کیا گیا۔ اْس کے بعد بتا دیا گیا کہ بچی انتقال کر چکی ہے۔ یاسر علی یہ سوال کر رہے ہیں کہ لاہور کے مرکز میں موجود ہسپتال کا یہ حال ہے۔ ’’سب کی ماں‘‘ کو یہ کون بتائے گا کہ چراغ تلے اتنا اندھیرا ہے کہ ننھی زندگیاں ریت کی طرح ہاتھوں سے سرک رہی ہیں۔ یاسر علی نے مزید بتایا کہ ان کی ایک بچی ابھی آئی سی یو میں ہے، جسے کہیں منتقل بھی نہیں کیا جا سکتا۔ والدین کو تو ایسے وارڈز سے باہر رکھا جاتا ہے، جہاں سٹاف وافر ہو اور ہر مریض مانیٹر ہو رہا ہو، مگر بچہ وارڈ میں ماں کو بچے سے دور رکھ کر بھی اگر آپ توجہ نہیں دے سکتے، تو یہ ذمہ داری والدین کو ہی سونپ دیں۔ یہ قیمتی جان ضائع ہو گئی، اس کا ذمہ دار کون ہے؟؟ وہ اکیلی نرس جو درجنوں بچوں کو مانیٹر کر رہی ہے یا وہ وہ اکیلا ڈاکٹر جو ہائوس جاب پر ہے اور مسلسل ڈیوٹی سے تھکا ہارا ایک طرف کرسی پر نیم لیٹا سستا رہا ہے؟ اس کا ذمہ دار ہمارا سسٹم ہے یا قصور وار وہ والدین ہیں جنہوں ںے پنجاب میں بچے کو جنم دینے کا جرم کر لیا ہے؟ صحت کی سہولتیں فراہم کرنے والا بہترین سسٹم نافذ کرنیوالی مریم نواز، کیا اس معاملے پر توجہ دیں گی؟؟ ہمیں یقین ہے، مریم
نواز مخلص ہوں گی اور نیک نیتی سے یہ سسٹم چلانا چاہتی ہوں گی، لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ اس سسٹم کی راہ میں روڑے اٹکا کر حکومتی اقدامات کو ناکام کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ شائد کوئی اس سسٹم کا ایسا حصہ ہے، جو نہیں چاہتا کہ بہتری آئے اور مریم نواز کی گڈگورننس کے چرچے ہوں۔ وزیراعلیٰ کو اس معاملے کی تحقیقات کروا کرکے حقائق بے نقاب کرنا ہوں گے۔ مٹھی سے سرکتی زندگی کی ریت کو روکنا ہوگا۔ بے جرم اموات کا تسلسل توڑنا ہوگا اور ماوں کی گود اجڑنے سے روکنا ہوگا۔ سسٹم کی ان کالی بھیڑوں کو بے نقاب نہ کیا گیا تو سارا ملبہ ’’سب کی ماں‘‘ پر آئے گا اور میرے خیال میں وہ کبھی نہیں چاہیں گی کہ معصوم بے گناہوں کے گمنام قاتلوں میں ان کا نام بھی آئے۔