پاکستان کے ساتھ تجارتی راستوں کی بندش، افغان کسان مالی بحران کا شکار

پاکستان کے ساتھ تجارتی راستوں کی بندش، افغان کسان مالی بحران کا شکار

افغانستان میں زرعی تجارت اور برآمدی منڈیوں کی بندش کے باعث ٹماٹر، پیاز، تازہ پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور عدم استحکام دیکھنے میں آ رہا ہے، جس سے مقامی کسان شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان سے تجارتی سرگرمیاں جزوی طور پر متاثر ہیں، جبکہ سرحدی اور تجارتی پابندیوں کے باعث زرعی اجناس کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔ اس صورتحال نے افغانستان کے کاشتکاروں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک افغان کاشتکار نے دعویٰ کیا کہ ٹماٹر کی فی من قیمت جو پہلے تقریباً 12 ہزار افغانی تھی، اب کم ہو کر صرف 500 افغانی تک رہ گئی ہے، جس سے ان کی آمدن بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ منڈیوں تک رسائی محدود ہونے اور برآمدات متاثر ہونے کی وجہ سے فصلوں کی قیمتیں گر گئی ہیں، جس سے زرعی شعبہ بحران کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ وہ حکام سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تجارت کی بحالی اور کسانوں کے لیے ریلیف اقدامات کیے جائیں۔ماہرین کے مطابق خطے میں تجارتی رکاوٹوں اور برآمدی چینلز کی بندش کے باعث نہ صرف افغانستان کی زرعی معیشت متاثر ہو رہی ہے بلکہ مقامی سطح پر بھی قیمتوں کا توازن بگڑ رہا ہے، جس کے اثرات آئندہ فصلوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔