ضلع کرم میں فائرنگ سے 131 افراد جاں بحق، 186 زخمی، راستوں کی بندش سے مشکلات بڑھ گئیں

ضلع کرم میں فائرنگ سے 131 افراد جاں بحق، 186 زخمی، راستوں کی بندش سے مشکلات بڑھ گئیں

ضلع کرم میں فائرنگ کے ایک اور واقعے میں زخمی ہونے والا شخص دم توڑ گیا ہے، جس کے بعد 12 روز کے دوران فائرنگ کے واقعات میں 131 افراد جاں بحق اور 186 زخمی ہو چکے ہیں۔

 اسپتال ذرائع کے مطابق یہ واقعات علاقے میں بڑھتی ہوئی تشویش کا باعث بنے ہیں۔اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ ضلع بھر میں گزشتہ شام سے فائر بندی پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے اور اس کے نتیجے میں ضلع بھر کے تعلیمی ادارے 10 روز بعد کھول دیے گئے ہیں۔ تاہم، اس صورت حال کے باوجود ضلع کرم میں اب بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ایم این اے حمید حسین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پشاور اور اچنار روڈ سمیت کئی آمد و رفت کے راستے بند ہیں، جبکہ خرلاچی بارڈر کی بندش کے سبب نہ صرف آمد و رفت متاثر ہوئی ہے بلکہ تجارت بھی رک چکی ہے۔

 اس کے علاوہ، انٹرنیٹ، موبائل سروس اور شاہراہوں کی بندش کی وجہ سے شہریوں کو روزمرہ کی ضروریات میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، خاص طور پر اشیاء خور و نوش، ادویات اور پیٹرول کی کمی کا سامنا ہے۔حمید حسین نے مزید بتایا کہ ضلع کرم میں اس وقت تقریباً 100 زخمی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، اور یہ صورتحال مزید توجہ کی متقاضی ہے تاکہ فوری امداد فراہم کی جا سکے۔