اسرائیل کے جنگ بندی کے باوجود حملے ، لبنانی بریگیڈیئر جنرل سمیت 12 افراد شہید

 لبنانی صدر نے فوجی گاڑی پر اسرائیلی حملے کو ملکی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا
بیروت(آئی این پی )جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں لبنانی فوج کے ایک اعلی افسر بریگیڈیئر جنرل وسام صبرا سمیت کم از کم 12 افراد شہید ہو گئے۔لبنان اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے باوجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ۔ غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق لبنانی فوج کا کہنا ہے کہ حملے میں ایک فوجی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بریگیڈیئر جنرل، ایک کیپٹن اور ایک سپاہی جان کی بازی ہار گئے، جبکہ مختلف علاقوں میں ہونے والے دیگر حملوں میں مزید 9 افراد شہید ہوئے۔لبنانی فوج نے بتایا کہ خاردلی اور نباتیہ کو ملانے والی سڑک پر فوجی گاڑی پر اسرائیلی حملے میں بریگیڈیئر جنرل وسام صبرا، کیپٹن ایلی خوری اور سپاہی حسین غزال جاں بحق ہوئے، اسرائیل کی جانب سے مسلسل اور دانستہ حملوں کا مقصد خطے میں امن و استحکام کیلئے جاری کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔اسرائیلی فوج نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ مقام ایک فعال جنگی زون تھا اور اس علاقے میں نقل و حرکت کے لئے اسرائیلی فوج سے پیشگی رابطہ ضروری تھا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ادھر لبنان کے صدر جوزف عون نے حملے کو ملکی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ وزیراعظم نواف سلام نے اسے لبنان اور لبنانی عوام کے خلاف گھنائونا جرم قرار دیتے ہوئے ہلاک ہونے والے فوجی افسران اور اہلکاروں کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا