آبادی کا دباؤ تمام منصوبہ بندی ناکام بنا رہا ہے، وزیر صحت مصطفی کمال

آبادی کا دباؤ تمام منصوبہ بندی ناکام بنا رہا ہے، وزیر صحت مصطفی کمال

وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ایک سنگین قومی مسئلہ بن چکی ہے، جس کے باعث صحت، منصوبہ بندی اور بنیادی سہولیات کے شعبوں پر شدید دباؤ ہے۔

  ہیلیون پاکستان کی سی ای او سے ملاقات
ملاقات میں ادویہ سازی کے شعبے میں نجی خدمات پر تبادلہ خیال ہوا۔مصطفی کمال نے کہا کہ صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے سرکاری و نجی اشتراک وقت کی ضرورت ہے۔
  آبادی میں اضافہ اور خطرات:
پاکستان میں شرح تولید 3.6 فیصد ہے، جسے کم کر کے 2 فیصد تک لانے کی ضرورت ہے۔
وزیر صحت کے مطابق:"اگر موجودہ شرح برقرار رہی تو 2030 تک پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن جائے گا۔"
  صاف پانی اور سیوریج:
ملک میں 68 فیصد بیماریاں آلودہ پانی کے باعث پھیلتی ہیں۔سیوریج ٹریٹمنٹ سسٹم کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں، جسے اب متعارف کرایا جا رہا ہے۔صاف پانی کی فراہمی کو اولین ترجیح قرار دیا گیا۔
  صحت کا نظام اور اصلاحات:
پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم کمزور ہے، جسے ٹیلی میڈیسن منصوبے سے بہتر بنایا جا رہا ہے۔"اب ڈاکٹرز اور دوا مریضوں کے دروازے تک پہنچائی جا رہی ہے۔"بڑے اسپتالوں پر بڑھتا بوجھ روکنے کے لیے روڈ میپ تیار کر لیا گیا ہے۔
حکومت کی حکمت عملی:

"علاج سے بہتر احتیاط ہے، لوگوں کو بیماری سے بچانا اولین ہدف ہے۔"
  بنیادی اقدامات اور پالیسی وژن:
وزیر صحت نے کہا کہ:ہیلتھ کیئر سسٹم میں بڑی اصلاحات کی جا رہی ہیں.منصوبہ بندی کی ناکامی کا بڑا سبب غیر متوازن آبادی ہے.ہر شعبے کو دباؤ سے نکالنے کے لیے آبادی کنٹرول پر سخت اقدامات ناگزیر ہیں