دنیا توازن کھو رہی ہے ‘ سب سے بھاری بوجھ پاکستان پہ پڑ رہا ہے

نازیہ آصف 
اس وسیع و عظیم تر کائنات جس کا ہم ایک بہت چھوٹا سا حصہ ہیں اربوں کھربوں نوع حیات و ممات اور اجرام فلکی اس کا حصہ ہے۔اس کائنات لم یسیط کو باقاعدہ اور زندہ رکھنے میں ایک مائیکروسکوپک جاندار بھی اتنا ہی اہم ہے جتنی دوسری تمام مخلوقات۔
لندن نیچرل ہسٹری میوزیم کی کیوریٹر ایریکا میک السٹر کہتی ہیں کہ "اگر دنیا سے تمام کیڑے مکوڑے نکال دیے جائیں تو ہم بھی مر جائیں "۔ یعنی تمام مخلوقات ،جمادات ، نباتات و حیوانات  کی زندگی باہم مربوط ہے۔
قارئین !اسی کا نام" ایکو سسٹم" ہے یہ سسٹم رب کائنات کا تخلیق کیا گیا یے۔ ہم جب اپنی تہذیبی یا تخریبی کاروائیوں سے اس میں رخنہ ڈالتے ہیں تو سمجھ لیجیے اپنے ہاتھوں اپنی بربادی کا سامان کرتے ہیں۔ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن کے مطابق انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے زمین پہ درجہ حرارت تین گنا بڑھ چکا ہے اگرچہ اس میں پاکستان کا کوء رول نہیں ہے۔لیکن یہ سچ ہے کہ ہمارے خطے میں ٹمپریچر 1.43ڈگری  بڑھ چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ بڑھاؤ پچاس ڈگری تک پہنچ گیا تو پاکستان کے بہت سے شہر ناقابل رہائش ہو جائیں گے۔ 

گرمی کی یہ شدت ہمالیہ قراقرم کے دامن میں صدیوں سے  پھیلے گلیشئروں کو پگھلا رہی ہے پاکستان دو ہزار بائیس میں بھی موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا اور اس کے بعد اب بھی ملک عزیز بدترین موسمی تغیرات کی ضد میں ہے اور مزید یہ کہ ماہرین موسمیات کے مطابق گلیشیروں کا یہ پگھلاؤ اگلے سال بائیس فیصد زیادہ ہو سکتا ہے۔
ہماری خوش قسمتی کہ ہم براعظم ایشیا کے اس خطے میں ہیں کہ جہاں دنیا کے عظیم ترین تین پہاڑی سلسلے ہمالیہ ، قراقرم اور کوہ ہندوکش  کی شروعات ہوتی ہے۔مگر یہی ہماری بدقسمتی بھی ہے کہ ہم اس ہمالیائی خطے میں سب سے نشیبی علاقے میں بھی ہیں اس لیے تبت کے ذیلی سلسلے کیلاش سے نکلنے والا سندھو دریا ، ہماچل سے نمو پانے والا راوی اور چندرا ، بھاگا سے تشکیل پانے والا چناب ، ان عظیم سلسلہ ہائے کوہ سے نکلتے ہی ہماری ارض پاک کی طرف رخ کر لیتے ہیں۔
قارئین اگر ہمیں اس دھرتی پہ زندہ رہنا ہے تو ہمیں اپنی فضول خواہشات کی قربانی دے کر اپنی اگلی نسلوں کو بچانا ہوگا۔جس کے لیے سب سے پہلے یہ ضروری ہے
 کہ
 1۔۔۔۔طویل عرصے تک ہاؤسنگ سوسائٹیز پہ پابندی لگاء جائے یعنی کنالوں کے گھروں کی جگہ اپارٹمنٹس کو فروغ دیا جائے، 
جس سے جگہ کی بچت اور آبادی کا کھپاو زیادہ ہو سکے گا،
 وسیع ایریے میں واٹر سپلائی ،سسٹم ، برقی نظام، اور سیورج سسٹم بھی محدود ہو جائے گا۔
زمین کی بچت سے ایک وسیع علاقہ کنکریٹ میں بدلنے سے بچ جائگا ، جسے ہم زراعت یا کء دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کر سکیں گے۔
2۔۔۔ دریاؤں اور برساتی نالوں کے قدرتی بہاؤ کے راستوں کو  واگزار کروا کر محفوظ بنائیں۔
کیونکہ حالیہ سیلابوں کے مشاہدے سے یہی بات سامنے آء ہے کہ وہی علاقے پانی سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جو پانی کی گذرگاہوں پہ قبضہ کر کے بنائے گئے تھے۔
ان گذرگاہوں کی نشان دہی کر کے ان کے کناروں پہ فینسی درختوں کی بجائے اپنے پرانے روایتی درخت جیسے کیکر، شیشم، نیم،  جامن اور آم کے پیڑ لگائے جائیں کیونکہ فضا میں بڑھتی کاربن کا سب سے بڑا دشمن درخت ہیں۔ جو کاربن کو پی جاتے ہیں۔
بڑھتے ٹمپریچر کی ایک بڑی وجہ ہمارے ہاں غیر معیاری اور گھٹیا قسم کا پٹرول اور ڈیزل بھی ہیں۔یاد دیے پٹرول میں کاربن تو درخت جذب کر لیتے ہیں مگر سلفر ، لیڈ ، نائٹروجن آکسائیڈ اور میگنیز کے آگے درخت بھی بے بس ہیں۔اس زہر میں کمی کے لیے اچھی کوالٹی کا پٹرول استعمال کرنا لازم ہے۔پرائیویٹ گاڑیوں کی جگہ پبلک ٹرانسپورٹ کا فروغ لازم ہے۔
قارئین درجہ حرارت نیچے آئے گا تو گلیشیروں کا پگھلاؤ کم ہو گا، پگھلاؤ کم ہو گا تو بارشوں اور سیلاب سے بچے ہو گی۔ ورنہ بہت جلد ممکن ہے کہ انسانی آبادی ایک بہت بڑا المیہ بن جائے کیونکہ جتنی تیزی سے گلیشیر ٹوٹ رہے ہیں اور سیلاب کم وبیش پاکستان کے ہر علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں غذائی کمی قحط کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
دوسری طرف بڑھتی ہوئی سمندر کی سطح آب دنیا کے کئی ممالک کو بہت جلد نگل لے گی۔
 ہبہتر ہے سبق سیکھ لیا جائے ورنہ ہم نے جو انسانی و صنعتی ترقی کے نام پہ رب کائنات کے بنائے نظام " ایکو سسٹم"  میں پتھر پھینکے ہیں وہ ہمارے ہی سر پہ پڑنا شروع ہو چکے ہیں۔