استحکام پاکستان کا واحد حل یکساں قانون و انصاف

طلعت بٹ
معاشرے میں جنم لینے والے جرائم کیسے اور کیوں پیدا ہوتے ہیں؟اس کی بہت سی وجوہات ہیں مگر سب سے بڑی وجہ نا انصافی اور نافرمانی ہے۔ جس معاشرے میں انصاف کی فراہمی ناپید ہو جائے تو وہاں ہر فرد میں قانون شکنی کا عنصر گھر کر جاتا ہے۔ دنیا بھر میں جرائم پیشہ افراد وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں مگر جس ملک میں انصاف بر وقت دستیاب ہو وہاں پر جرائم کی خبریں کم ملتی ہیں۔ اب میں آتا ہوں اپنے پیارے دیس پاکستان کی جانب جہاں انصاف کا ترازو صرف دیکھاوے کیلئے نظر آتا ھے جس کی وجہ سے لوگوں میں جرم کرنے کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے۔ عدالتوں میں انصاف نام کا کوئی جز دستیاب نہیں جس کی وجہ سے مجرم اور سزا کے درمیان رشوت کا مضبوط پل دونوں کو ملانے میں اہم کردار ادا کرتا ھے۔ہمارے ہاں عدالتوں میں لمبی قطار میں ملزم ضمانت منظور کرانے کیلئے  کھڑے نظر آتے ہیں اور دوسری جانب انصاف فراہم کرنے والے جو رشوت کو اپنا حق سمجھتے ہوئے مجرموں پر دست شفقت عنایت فرماتے ہیں۔ پاکستان میں کوئی ایسی عدالت کام نہیں کر رہی جو بر وقت انصاف فراہم کرے۔ اگر پاکستان کی عدالتیں اپنا کردار ادا کریں اور مجرم کو کسی قسم کی کوئی گنجایش نہ دیں اور اپنا حکم قانون کے مطابق سنانا شروح کر دیں تو پاکستان کی بگڑی ہوئی حالت ٹھیک ہو جائے گی۔ میرے چند سوالات بڑے کڑک ہیں۔کیا اسلامی جموریہ پاکستان میں کوئی ایسا قانون موجود ہے جس میں عدلیہ کے نمائندوں کو رشوت لینے کے الزام میں جیل میں ڈالا جائے ؟۔ اگر پاکستان میں ان راشی ججز کو ہتھکڑیوں سمیت اٹھا کر قید میں ڈالا جائے تو یہ پاکستان اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ بحال کر سکتا ہے۔ کرپشن کرنے والے ججوں کو کیفر کردار تک کون پہنچائے گا ؟ آئین کی دھجیاں بکھیرنے والوں کا احتساب کون کرے گا ؟جب تک پاکستانی وکیل  عدالتوں میں بغیر رشوت اور سفارش کام نہیں کریں گے  پاکستان کی حالت کبھی نہیں سدھرے گی۔جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں ان ججوں کو جو مراعات حاصل ہیں کیا یہ اپنا فریضہ اسی حساب سے سر انجام دیتے ہیں؟میرے اندازے کے مطابق معاشرے میں سب سے بڑا مجرم ایک جج ہے جو غلط فیصلہ سنا کر قانون کو توڑتا ہے اور کروڑوں کی رشوت لے کر مجرموں کو پناہ دیتا ہے ایسے جج کو عوام کے سامنے سرعام ہتھکڑیوں میں جکڑ کر جیل میں ڈالا جائے تو یہ ملک اور عوام کی حالت درست ہو گی۔ عدالتوں کا احترام اس معاشرے میں ہوتا ہے جہاں پر انصاف بر وقت دستیاب ہو جہاں انصاف کی دھجیاں بکھیری جایئں وہاں غلط فیصلہ سنانے والے راشی جج کو عدالت کے باہر عدالت لگا کر قانون کا احترام سکھایا جائے۔ پاکستان میں آج تک کسی راشی جج کو انٹی کرپشن نے گرفتار نہیں کیا جس کی وجہ سے یہ قانون بنانے والے قانون کا مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں۔جب تک رشوت خور ججوں کو سزا نہیں دی جائے گی یہ عدالتی نظام کبھی ٹھیک نہیں ہو گا جیسے مسائل ہیں ویسے ہی رہیں گے۔ جونہی عدالتوں انصاف میسر ہو گا دوسرے مرحلے میں قانون توڑنے والوں پر بھی بات ہو گی دراصل قانون پر عمل نہ کرنا بھی قانون توڑنے کے مترادف ہی ہے اگر ہم اپنے چاروں اطراف نظر ڈالیں تو محسوس ہو گا کہ قانون کے رکھوالے ہی قانون کے توڑنے والے ہیں۔اس نظام کو ختم کرنے کیلئے ایک مناسب حکومت درکار ہو گی اور عوامی جمہوری حکومت کیسے وجود میں آئے گی یہ بھی ایک لمبی بحث ہے۔پاکستان میں جو بھی حکومت قیام پزیر ہوئی نہ تو سیاسی تھی اور نہ ہی عوامی سو جب تک عوام کا راج نہیں ہو گا ان عدالتوں اور رشوت خور ججوں کا احتساب کبھی بھی نہیں ہو سکتا امید کرتا ہوں کہ پاکستان میں عوام کی طاقت سے جمہوری حکومت کا قیام ہو تو پھر اس پر مزید بات ہو گی۔۔