ٹرمپ نے ایران اور عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں لگادیں

  واشنگٹن(آئی این پی ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران  اور  عالمی فوجداری عدالت پر  پابندیاں عائد کردیں۔عرب میڈیا کے مطابق امریکی صدر کی وائٹ ہائوس میں واپسی کے بعد ایران کے خلاف یہ پہلی پابندیاں ہیں جس میں امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے تیل کے نیٹ ورک کو نشانہ بنایا ہے۔ ہ ایران میں پہلے سے پابندیوں کاشکارکمپنیوں سے منسلک افراد، جہازوں اور فرموں پرپابندیاں لگائی ہیں۔ امریکی وزیر خزانہ نے الزام عائد کیا ہے ایران تیل کی آمدنی کو جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل اور ڈرونز پر لگا رہا ہے، ایران اپنی تیل کی آمدنی کو دہشتگرد گروپوں کی مدد کے لیے بھی استعمال کررہا ہے لہذا غیرقانونی سرگرمیوں کی فنڈنگ روکنے کے لیے مزید سخت اقدامات کریں گے۔دریں اثناء  صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی فوجداری عدالت پرپابندی کے صدارتی حکم نامے پر دستخط کردئیے۔وائٹ ہائوس نے امریکی صدر کی جانب سے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عالمی فوجداری عدالت کے حکام، ملازمین اور ان کے اہلخانہ کے اثاثے منجمد کردیے گئے ہیں۔وائٹ ہائوس کا کہنا ہیکہ عالمی فوجداری عدالت کے حکام، ملازمین اور ان کے اہلخانہ پر سفری پابندیاں بھی عائد کردی گئی ہیں‘ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اقتصادی شراکت داروں کے ساتھ ایران کی قانونی تجارت کو روکنا غیر قانونی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ امریکا کا ایرانی قوم پر دبا ڈالنیکا فیصلہ ناصرف ناجائز، غیر قانونی اور خلاف ورزی پر مبنی اقدام ہے بلکہ غیر منصفانہ اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف بھی ہے۔امریکی اقدام پر خبردار کرتے ہوئے ترجمان اسماعیل بقائی کا    کہنا  تھا کہ اس طرح کے یک طرفہ اقدامات کے نتائج کا ذمے دار امریکا ہو گا۔د ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات سے ایران کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔غیرملکی خبررساںادارے کے مطابق جاری  ایک بیان میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ایران نے ماضی میں رعایتیں دیں، امریکا نے معاہدہ توڑا۔انہوں نے کہا کہ امریکا نے ہماری سلامتی کو خطرے میں ڈالا تو ہم ان کی سلامتی کو خطرے میں ڈالیں گے