پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ منڈلا رہا ہے کیونکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجن میں اضافہ کرنے کے لئے سمری ای سی سی کو بھیج دی گئی ہے۔
اگر یہ منظوری حاصل کر لیتی ہے تو عوام پر اضافی بوجھ پڑے گا، کیونکہ فی لیٹر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 2 روپے 40 پیسے تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق، پٹرولیم ڈویژن نے یہ سمری ای سی سی کو بھیجی ہے، جس میں او ایم سیز (آئل مارکیٹنگ کمپنیاں) اور ڈیلرز کا مارجن 1 روپیہ 10 پیسے سے بڑھا کر 1 روپیہ 28 پیسے فی لیٹر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔اس وقت، ایک لیٹر پیٹرول پر کمپنیوں کا منافع 7 روپے 87 پیسے اور ڈیلرز کا کمیشن 8 روپے 64 پیسے فی لیٹر ہے۔ صارفین پہلے ہی پٹرول پر 16 روپے 51 پیسے اور ڈیزل پر اتنی ہی رقم ادا کر رہے ہیں، اور اگر منظوری دی گئی تو یہ اضافی رقم بھی شامل ہو جائے گی۔
دوسری جانب، حکومت نے 1 دسمبر کو پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی کی تھی۔ پٹرول کی قیمت میں 2 روپے فی لیٹر کمی کی گئی اور نئی قیمت 263 روپے 45 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 4 روپے 79 پیسے کم ہو کر 279 روپے 65 پیسے فی لیٹر ہو گئی تھی۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ای سی سی اور وفاقی کابینہ اس منظوری کو منظوری دیتی ہے یا نہیں، کیونکہ اس سے عوام پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔