پولیس کا بس چلے تو گھروں کا سامان بھی اٹھا کر لے جائے:سندھ ہائیکورٹ

کراچی(آئی این پی )سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس ظفر راجپوت نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے کہ پولیس کا بس چلے تو گھروں کا سامان بھی اٹھا کر لے جائے، تفتیش کریں لوٹ مار نہیں۔شاہ لطیف ٹائون سے لاپتا شہری کی بازیابی سے متعلق درخواست  پر سماعت سندھ ہائیکورٹ میں ہوئی،  جس میں  عدالت نے تفتیشی افسر سے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔جسٹس ظفر احمد راجپوت کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ کے روبرو شاہ لطیف ٹائون سے لاپتا شہری کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں ایس ایس پی انویسٹی گیشن ساتھ علی حسن  اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن ملیر آصف عدالت میں پیش ہوئے۔درخواستگزار نے کہا کہ میرے بھائی کو پولیس نے گرفتار کیا اور گھر میں لوٹ مار کی۔ پولیس اہلکاروں نے گھر سے زیورات اٹھائے اور بھائی کی موٹر سائیکل بھی لے گئے۔درخواستگزار کے وکیل نے مقف اختیار کیا کہ شہری مصور کو پولیس نے شاہ لطیف کے علاقے سے حراست میں لیا۔ پولیس نے موٹرسائیکل ظاہر کردی ہے تاہم مصور حسین تاحال لاپتا ہے، بازیاب کرایا جائے۔جسٹس ظفر احمد راجپوت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے احکامات سے متعلقہ پولیس والوں کی نوکری اور پوسٹنگ بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ عوام کے مال کو غنیمت سمجھ کر لوٹ مار نہ کی جائے۔ عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اپنی من مانی کرنا چاہتے ہیں تو پہلے معاشرے کو جنگل قرار دیدیں۔ کہہ دیں کہ ہمارے پاس ڈنڈا ہے اور جو ہم چاہیں گے وہی قانون ہے۔ اگر ہم کسی مہذب معاشرے میں ہیں، تو مہذب معاشرے اداروں سے چلتے ہیں