سپریم کورٹ نے عمران خان کی نظرثانی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا

سپریم کورٹ نے عمران خان کی نظرثانی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا

سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق ہتک عزت کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں عدالت نے نظرِ ثانی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بانی پی ٹی آئی کی جانب سے دائر نظرِ ثانی درخواستوں پر سماعت کی۔ یاد رہے کہ ٹرائل کورٹ نے ہتک عزت کیس میں عمران خان کا حقِ دفاع ختم کر دیا تھا، جسے بعد ازاں سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے عدالت کے سامنے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ جب تک مدعی باقاعدہ درخواست نہ دے، اس وقت تک کسی فریق کا حقِ دفاع ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی جانب سے کیس میں اعتراضات دائر کیے گئے تھے اور عدالت نے جواب جمع کرانے کا حکم بھی دیا تھا۔علی ظفر کے مطابق دفاع کی جانب سے مارچ 2022 میں اعتراضات جمع کرائے گئے تھے تاہم ٹرائل کورٹ نے اکتوبر 2022 میں ان اعتراضات کو مسترد کر دیا اور زائد المیعاد ہونے کی بنیاد پر عمران خان کا حقِ دفاع ختم کر دیا۔

 انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ٹرائل کورٹ کو حقِ دفاع دوبارہ بحال کرنے کی ہدایت دی جائے تاکہ کیس کا مکمل دفاع کیا جا سکے۔دوسری جانب مدعی شہباز شریف کے وکیل نے عمران خان کا حقِ دفاع بحال کرنے کی مخالفت کی اور عدالت سے استدعا کی کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا جائے۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے نظرِ ثانی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جو بعد میں سنایا جائے گا۔