امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ طے پانے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کو امریکا کی “مکمل اور شاندار فتح” قرار دیا ہے۔
اے ایف پی کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ امریکا کے لیے سو فیصد کامیابی ہے اور اس میں کسی قسم کا شک نہیں۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ جنگ بندی کے تحت ایران کے یورینیم ذخائر کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جائے گا۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ چین نے بھی ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے بعد یہ معاہدہ ممکن ہوا۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو بہتر بنانے میں مدد کرے گا اور مختلف اقسام کی سپلائیز فراہم کرے گا تاکہ خطے میں صورتحال مستحکم رہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ ایک نئے “سنہری دور” میں داخل ہو سکتا ہے اور اس معاہدے کے نتیجے میں بڑے معاشی مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ ایران اب تعمیر نو کے عمل کا آغاز بھی کر سکتا ہے۔ معاہدے کے تحت ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرے گا، جسے ملک کی تعمیر نو میں استعمال کیا جائے گا۔ماہرین کے مطابق یہ جنگ بندی ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن اس کے طویل مدتی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ فریقین معاہدے کی شرائط پر کس حد تک عمل کرتے ہیں۔