ماسکو: روس نے جرمنی کے اس الزام کو سختی سے مسترد کردیا ہے کہ 4 اگست کو لیپزگ ایئرپورٹ پر مبینہ دھماکا خیز ڈرون کے واقعے کے پیچھے روس کا ہاتھ تھا۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ جرمنی نے یہ تعین کرنے کے لیے مناسب تحقیقات نہیں کیں کہ مذکورہ ڈرون کس کا تھا۔ ان کے مطابق بغیر قابلِ اعتماد تحقیقات کے روس کو ذمہ دار ٹھہرانا اور روسی سفارتی تنصیبات کے خلاف اقدامات کرنا روس کے خلاف محاذ آرائی میں اضافے کے مترادف ہے۔سرگئی لاوروف نے جرمنی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ برلن نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ انہوں نے جرمنی کے حالیہ اقدامات کو ’’حقیقی جنگ کے آغاز‘‘ سے تعبیر کیا۔روسی وزیر خارجہ نے بون میں روسی قونصل خانے اور برلن میں روسی ہاؤس کو بند کرنے کے جرمن فیصلے پر بھی سخت اعتراض کیا۔
انہوں نے جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے یورپ کی مضبوط ترین فوج بنانے کے ہدف کو بھی خطرناک رجحان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔جرمنی نے یکم ستمبر کو لیپزگ ایئرپورٹ واقعے کا ذمہ دار روس کو قرار دیتے ہوئے روسی سفارتی عملے اور اداروں کے خلاف اقدامات کا اعلان کیا تھا۔تاہم روس کا مؤقف ہے کہ جرمنی کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کے حق میں اب تک کوئی قابلِ اعتماد شواہد پیش نہیں کیے گئے۔