مذاکرات ناکام،ذمہ دار پی ٹی آئی نہیں وفاقی وزرا ہیں، شوکت یوسفزئی

حکومت  مذاکرات کرے، ایمرجنسی یا گورنر راج پانچ کروڑ عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہے
پشاور(آئی این پی ) پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے ترجمان شوکت یوسف زئی نے کہا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار وفاقی وزرا ہیں، 99 فیصد پر اتفاق رائے ہونے کا دعوی کرنے والی حکومت مذاکرات سے پسپا کیوں ہوئی، ایک فیصد مسئلہ کے حل کے لیے مزید وقت دیا جا سکتا تھا۔ اپنے ایک  بیان میں انہوں  نے  کہا کہ وزرا کی جانب سے پی ٹی آئی پر سہولت کاری کے الزامات بے بنیاد ہیں، کسی لیڈر کے خلاف کوئی ایک ثبوت ہو تو سامنے لائیں، ملکی معیشت لانگ مارچ سے تباہ نہیں ہوئی،  وزیر اعظم  صاحب )پ کو چار سال ملے اپ کی معاشی پالیسیاں ناکام ہیں، حکومت نے معیشت پر توجہ دینے کے بجائے پی ٹی آئی کو ختم کرنے پر توانائی ضائع کی۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے 2025 اے پی سی اعلامیہ پر عمل درآمد کرا یا جائے، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے  کے پی حکومت نے کبھی تعاون سے انکار نہیں کیا، ایمرجنسی یا گورنر راج صوبے کے پانچ کروڑ عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہے۔شوکت یوسف زئی نے کہا کہ توقع ہے گورنر ہاس سازشوں کا گڑھ نہیں بنے گا، بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ آج بھی مذاکرات کی بات کر رہے ہیں، حکومت کو چاہیے بغیر کسی تعطل کے اپوزیشن سے مذاکرات شروع کرے، گورنر راج کا مشورہ دینے والے وزرا حکومت کو مزید بند گلی میں لے جانا چاہتے ہیں، ہمارے مطالبات جائز ہیں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درامد چاہتے ہیں، عمران خان سے ملاقات، اسپتال منتقلی اور ان کے کیسز  کی جلد سماعت اور بہنوں کی رہائی ہی اس کا واحد حل ہے۔