مظلوم کا سوال۔۔۔!

 چوہدری افضل
انسان نے غار سے محل تک، پتھر کے اوزار سے جدید ٹیکنالوجی تک اور چراغ سے مصنوعی ذہانت تک کا سفر طے کر لیا، مگر ایک سوال آج بھی اس کے ساتھ چل رہا ہے۔ کہ کیا انسان واقعی انسان بن سکا ہے؟۔صدیوں پہلے انسان جنگلوں میں رہتا تھا۔ طاقتور کمزور کو زیر کرتا، قوت رکھنے والا وسائل پر قابض ہو جاتا اور بے بس اپنی بقا کی جنگ لڑتا۔ پھر انسان نے تہذیب سیکھی، بستیاں بسائیں، ریاستیں قائم کیں، قوانین بنائے، عدالتیں وجود میں آئیں اور انسانی حقوق کے منشور لکھے گئے۔ 
بظاہر انسان مہذب ہوتا چلا گیا، مگر طاقت کا وہی قدیم قانون آج بھی کسی نہ کسی صورت میں زندہ ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے ظلم کے ہاتھ میں پتھر ہوتا تھا، آج اختیار، دولت، منصب، تعلق اور اثر و رسوخ اس کے ہتھیار ہیں۔یہیں سے مظلوم کا سوال جنم لیتا ہے۔کالم میں موجود شعر اسی سوال کو نہایت سادہ مگر گہری زبان میں سامنے لاتا ہے۔ ایک بے بس انسان اپنے رب سے مخاطب ہے۔ وہ معافی مانگتا ہے، دوا دیتا ہے، امید باندھتا ہے، انتظار کرتا ہے، مگر آخرکار اس کے حصے میں تنہائی اور محرومی آتی ہے۔ تب اس کے دل سے سوال نکلتا ہے۔
’’تسی لوٹ لیاں دے رب ہو،
یا لوٹے جان والیاں دے؟‘‘
یہ صرف ایک شخص کی فریاد نہیں، یہ ہر اس انسان کی آواز ہے جس کا حق طاقتور لے گیا، جس کی محنت کسی اور کے نام ہو گئی، جس کی وفاداری کو کمزوری سمجھا گیا اور جس کی خاموشی کو رضامندی تصور کر لیا گیا۔
مگر مظلوم کا سوال صرف یہ نہیں کہ میرے ساتھ ظلم کیوں ہوا؟۔ اس کی گہرائی میں ایک اور سوال چھپا ہے کہ اگر طاقتور کو کمزور کا حق چھیننے کی آزادی ہے، اگر قانون کمزور کی دہلیز تک پہنچتے پہنچتے بے اثر ہو جاتا ہے اور اگر انصاف کے لیے بھی اثر و رسوخ درکار ہو، تو پھر تہذیب اور جنگل میں فرق آخر کہاں رہ جاتا ہے؟۔ظلم صرف کسی پر ہاتھ اٹھانے کا نام نہیں۔ کسی کا حق روک لینا، محنت کا معاوضہ دبا لینا، کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا یا طاقت کے زور پر کسی کی آواز خاموش کر دینا بھی ظلم ہے۔ لیکن ظلم کے سامنے خاموش رہنا بھی اس کا ایک '' خاموش '' شریک بن جانا ہے، کیونکہ بعض اوقات ظالم کو طاقت اس کے اپنے ہاتھوں سے نہیں، معاشرے کی خاموشی سے ملتی ہے۔
المیہ یہ ہے کہ ہم نے ظلم کی تعریف بھی اپنے مفاد کے مطابق بدل لی ہے۔ جب ظلم ہمارے ساتھ ہو تو ہمیں انصاف یاد آتا ہے، مگر جب وہی ناانصافی ہمارے اختیار سے کسی کمزور پر ہو تو اسے مصلحت، مجبوری یا حقِ اختیار کا نام دے دیتے ہیں۔یہیں انسان کے اصل امتحان کا آغاز ہوتا ہے۔انسان نے سمندر کی گہرائیاں ناپ لیں، آسمانوں تک رسائی حاصل کر لی اور مصنوعی ذہانت کو حیران کن صلاحیتیں دے دیں، مگر اپنے ضمیر کی گہرائی میں اترنے سے آج بھی گھبراتا ہے۔ ہم نے قانون کی کتابیں موٹی کر لیں، مگر انصاف کا راستہ مختصر نہ کر سکے۔ شاید اس 
لیے کہ تہذیب باہر کی دنیا کو بدلنے سے زیادہ آسان ہے، اصل مشکل اپنے اندر کے ظالم کو شکست دینا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ظالم ہمیشہ طاقتور نہیں رہتا۔ تخت بدلتے ہیں، سلطنتیں مٹتی ہیں اور چہرے تاریخ کے صفحات سے غائب ہو جاتے ہیں، مگر ظلم کی داستانیں باقی رہتی ہیں۔ مظلوم کی آہ شاید کسی سرکاری فائل میں درج نہ ہو، مگر وقت کے سینے پر ضرور لکھی جاتی ہے۔مظلوم کا سوال صرف ظالم سے جواب طلب نہیں کرتا؛ وہ ان سب کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے جو ظلم دیکھتے رہے مگر خاموش رہے۔ وہ پوچھتا ہے: جب تمہارے پاس کسی کا حق بچانے کی طاقت تھی، تب تم نے کیا کیا؟۔اختیار صرف کسی پر حکم چلانے کا نام نہیں، اختیار ایک امانت ہے، جو کمزور کے حق کی حفاظت کا تقاضا کرتی ہے۔ جس طاقت سے کسی کو دبایا جا سکتا ہے، اسی طاقت سے کسی کو سہارا بھی دیا جا سکتا ہے۔ فیصلہ صرف یہ ہے کہ انسان اپنے اختیار کو کس طرف استعمال کرتا ہے۔آج جس کے ہاتھ میں اختیار ہے، کل وہ بے اختیار بھی ہو سکتا ہے۔ آج جو کسی کی فریاد سن کر گزر گیا، کل شاید وہ خود کسی دروازے پر دستک دے رہا ہو۔ تب اسے شاید وہی سوال یاد آئے:
’’رب جی! تسی لوٹ لیاں دے رب ہو،
یا لوٹے جان والیاں دے؟‘‘
شاید اس سوال کا جواب آسمان سے آنے سے پہلے انسان کو اپنے اندر تلاش کرنا ہوگا۔ رب نے انسان کو عقل، ضمیر اور اختیار عطا کیے ہیں۔ اب فیصلہ انسان کا ہے کہ وہ ظلم کا حصہ بنتا ہے یا انصاف کا راستہ اختیار کرتا ہے۔شاید انسانی ارتقا کی آخری منزل یہی ہے کہ انسان طاقتور تو ہو، مگر ظالم نہ ہو، بااختیار تو ہو، مگر بے انصاف نہ ہو، ترقی یافتہ تو ہو، مگر بے حس نہ ہو۔کیونکہ انسان کی اصل پہچان یہ نہیں کہ اس نے کتنا حاصل کیا، بلکہ یہ ہے کہ اس کی طاقت سے کتنے کمزور محفوظ رہے اور اس کے اختیار سے کتنے مظلوموں کو انصاف ملا۔یہی مظلوم کا سوال ہے، اور شاید یہی انسانیت کا سب سے بڑا امتحان بھی۔