پنجاب ، سندھ حکومتوں میں کشیدگی صدر نے محسن نقوی کو طلب کرلیا پیپلز پارٹی کا سینیٹ اور قومی اسمبلی سے واک آؤٹ، لیگی قیادت سے معافی کا مطالبہ
صدر آصف علی زرداری کا وزیر داخلہ سے ٹیلی فونک رابطہ،کشیدگی پر تبادلہ خیال،وفاقی اور صوبائی سطح پر معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے پر زور ‘ملاقات میں تنائو کم کرنے پر مشاورت ہوگی
حکومت کی پیپلزپارٹی سے قانون سازی میں تعاون کی درخواست ‘پی پی نے حکومت کا ساتھ دینے سے معذرت کر لی ‘سپیکر چیمبر میں دونوں جماعتوں کے رہنمائوں کے دوران مذاکرات کا نتیجہ نہ نکل سکا
کراچی‘اسلام آباد(آئی این پی )صدر مملکت آصف علی زرداری پنجاب اور سندھ کی حکومتوں میں کشیدگی کو ختم کرانے کیلئے متحر ک ہوگئے، صدر زرداری نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور انہیں کراچی طلب کر لیا۔ذرائع کے مطابق صدر مملکت اور وزیر داخلہ کے درمیان گفتگو میں سندھ اور پنجاب حکومتوں کے درمیان حالیہ کشیدگی کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا، صدر آصف زرداری نے وزیر داخلہ کو فوری طور پر کراچی طلب کر لیا تاکہ صورتحال کا جائزہ لے کر تنا کم کرنے کیلئے اقدامات پر مشاورت کی جا سکے۔ذرائع کے مطابق صدر زرداری نے وفاقی اور صوبائی سطح پر معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے پر زور دیا۔دریں اثناء سی بیان بازی پر ن لیگ اور پی پی وفود کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے، رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی معافی کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔نجی ٹی وی کے مطابق ن لیگ نے پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے رابطہ کیا جس کے سپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں ن لیگ اور پی پی کے وفد کے درمیان ملاقات ہوئی۔پی پی وفد کی قیادت سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور اعجاز جاکھرانی نے کی جب کہ ڈپٹی سپیکر غلام مصطفی شاہ موجود تھے۔ ن لیگ کی جانب سے ایاز صادق، رانا ثنااللہ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری موجود تھے۔بعدازاں سپیکر چیمبر میں ہوئے یہ مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی احتجاج اور واک آئوٹ جاری رکھے گی، وزیراعظم کو صدر آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے ملاقات کرنی تھی، وزیراعظم کے دورہ ملائیشیا کی وجہ سے ملاقات نہیں ہو رہی، وزیراعظم وطن واپس آکر پیپلز پارٹی کے تحفظات پر بات چیت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی معافی کا کوئی مطالبہ نہیں کیا‘پیپلزپارٹی نے وزیراعلی پنجاب کی معافی کے مطالبہ سے پیچھے نہ ہٹنے کا فیصلہ کیا اورکسی بھی قانون سازی میں حصہ نہ لینے کافیصلہ کیا ہے جبکہ حکومتی ارکان نے موقف اختیار کیا ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف کی واپسی پر یہ معاملہ ان کے نوٹس میں لائیں گے۔ذرائع کے مطابق حکومت کا قومی اسمبلی اجلاس سے قبل پیپلزپارٹی سے ایک اور رابطہ ہوا ہے اورحکومت نے پیپلزپارٹی سے قانون سازی میں تعاون کی درخواست کی تاہم پیپلزپارٹی نے قانون سازی میں حکومت کا ساتھ دینے سے معذرت کر لی ہے۔علاوہ ازیںپیپلز پارٹی نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں سے واک آؤٹ کرتے ہوئے ن لیگی قیادت سے مطالبہ کیا ہے وہ ہماری قیادت کے خلاف بیان بازی پر معافی مانگے۔تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ اس وقت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں مقابلہ چل رہا ہے، امداد متاثرین تک تو نہیں پہنچی، شاید ان کی اپنی جیبوں تک پہنچی ہے، مقابلہ چل رہا ہے کس نے کتنی پریس کانفرنسز کیں، کتنی تصویریں بنوائیں، پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے اس ملک میں سب سے زیادہ حکمرانی کی، یہ لوگ ڈھٹائی سے مقابلہ کررہے ہیں کہ کس نے قوم کو کم دھوکا دیا