سرکاری نرخ مسترد، لاہور میں ایل پی جی 600 روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگی

سرکاری نرخ مسترد، لاہور میں ایل پی جی 600 روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگی

لاہور میں ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کے حکومتی دعووں کے باوجود شہری مہنگے داموں گیس خریدنے پر مجبور ہیں۔

 اوگرا کی جانب سے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 295 روپے فی کلو مقرر کیے جانے کے باوجود شہر میں گیس 550 سے 600 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے، جس سے صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔تفصیلات کے مطابق لاہور میں ایل پی جی کی قیمتوں پر سرکاری نرخ نامے کے مطابق عملدرآمد نہ ہو سکا۔ اوگرا کی جانب سے قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے باوجود مختلف علاقوں میں دکاندار سرکاری قیمت سے تقریباً دوگنا نرخ وصول کر رہے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی کے باعث گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو چکا ہے، ایسے میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے نے مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ سرکاری قیمت مقرر ہونے کے باوجود مہنگی گیس کی فروخت پر صارفین نے انتظامیہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

دکانداروں کا ایل پی جی مافیا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
دوسری جانب ایل پی جی فروخت کرنے والے دکانداروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اوگرا کی جانب سے گزشتہ دو ماہ سے ایل پی جی مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی گئی، جبکہ چھوٹے دکانداروں اور پمپ مالکان کو کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔دکانداروں کا کہنا ہے کہ پیرا فورس اور دیگر متعلقہ ادارے ان کے پمپس اٹھا کر لے جاتے ہیں، جبکہ ان کے بقول بڑے پیمانے پر ایل پی جی کا کاروبار کرنے والے عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے۔

مہنگی گیس خرید کر سرکاری نرخ پر فروخت کرنا ممکن نہیں، دکاندار
دکانداروں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب انہیں ایل پی جی ساڑھے پانچ سو سے 600 روپے فی کلو تک خریدنا پڑ رہی ہے تو وہ اسے 295 روپے فی کلو کے سرکاری نرخ پر کیسے فروخت کر سکتے ہیں؟ان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں ایل پی جی مناسب اور سستے نرخوں پر فراہم کی جائے تو وہ بھی صارفین کو مقررہ سرکاری قیمت پر گیس فروخت کر سکتے ہیں۔