امریکی ریپر میکلمور نے انکشاف کیا ہے کہ فلسطینی عوام کی حمایت اور ان کے لیے فلاحی فنڈز جمع کرنے کی غرض سے امریکا میں کنسرٹس منعقد کرنے کے لیے انہیں مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ متعدد بڑے اسٹیڈیمز اور معروف کنسرٹ مقامات نے انہیں جگہ فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
میکلمور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری اپنے بیان میں بتایا کہ انہوں نے فلسطینی عوام کے لیے فنڈز جمع کرنے کی خاطر مختلف ممالک میں ’فری فلسطین‘ کے عنوان سے فلاحی کنسرٹس منعقد کیے، جنہیں ڈبلن، پیرس اور لندن میں کامیابی سے منعقد کیا گیا۔تاہم گلوکار کے مطابق جب انہوں نے امریکا میں اسی نوعیت کے کنسرٹس کے انعقاد کی کوشش کی تو انہیں مختلف رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔
معروف امریکی کنسرٹ مقامات نے انکار کر دیا
میکلمور نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ نیویارک کے مشہور میڈیسن اسکوائر گارڈن، بارکلیز سینٹر اور دیگر معروف کنسرٹ مقامات نے ابتدا میں انہیں دستیاب تاریخوں کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ان کے مطابق جب ان مقامات کی انتظامیہ کو معلوم ہوا کہ کنسرٹس کا مقصد فلسطینی عوام کی حمایت اور ان کے لیے فلاحی فنڈز جمع کرنا ہے تو انہوں نے جگہ فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔گلوکار نے اس صورتحال پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے آزادیٔ اظہار کے خلاف اقدام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فنکاروں کو اپنے خیالات کے اظہار اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کسی مقصد کی حمایت کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
فلسطینی عوام کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، میکلمور
میکلمور نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ وہ فلسطینی عوام کی حمایت سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کے مطابق طاقتور افراد کنسرٹ ہالز اور اسٹیڈیمز کے مالک تو ہو سکتے ہیں، لیکن وہ وہاں آنے والے لوگوں اور ان کے خیالات کے مالک نہیں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر انہیں بڑے کنسرٹ مقامات پر جگہ نہیں ملتی تو وہ اپنے اسٹیج خود قائم کریں گے اور فلسطینی عوام کے لیے فنڈز جمع کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
’فری فلسطین‘ کنسرٹس کا مقصد
واضح رہے کہ میکلمور فلسطینی عوام کے حق میں اپنے مؤقف اور انسانی ہمدردی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے باعث بھی خبروں میں رہتے ہیں۔ ان کے ’فری فلسطین‘ کنسرٹس کا بنیادی مقصد موسیقی کے ذریعے عوامی حمایت حاصل کرنا اور فلسطینیوں کے لیے امدادی فنڈز جمع کرنا ہے۔