پنجاب:کوڑا ٹیکس کی ادائیگی لازمی قرار
دو ماہ کے دوران کوڑا ٹیکس کی مد میں 2 کروڑ 40 لاکھ روپے جمع ہوئے، لاہور سمیت پنجاب بھر میں اب تک 14 لاکھ بلز تقسیم کیے جا چکے،نومبر میں لاہور میں پانی کے بل 1ہزار روپے اضافے کے ساتھ موصول ہونے کی اطلاعات
لاہور (خصوصی رپورٹ) پنجاب بھر میں کوڑا ٹیکس کی ادائیگی لازمی قرار دے دی گئی ہے، جبکہ ٹیکس ادا نہ کرنے والے شہریوں کو جائیداد کی خرید و فروخت کے لیے این او سی جاری نہیں کیا جائے گا،اب جو کوڑا ٹیکس نہیں دیگا،وہ جائیداد بیچ سکے گا نہ خریدسکے گا۔نومبر میں لاہور کے شہریوں کو پانی کے بل 1ہزار روپے اضافے کے ساتھ موصول ہوئے ہیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ شہرمیں کہیں صفائی کرنے والے نظرآتے ہیں نہ ہی گھروں کا کوڑا اٹھانے کا لاہور سالڈویسٹ کمپنی نے کوئی بندوبست کیا ہے تاہم اکتوبرمیں پانچ‘چھ سو روپے ایواریج بل اداکرنے والے شہریوں کو نومبرمیں17سے18سو روپے کے بل موصول ہوئے ہیں دوسری جانب کوڑا ٹیکس کی دوسری سہ ماہی کے بلز بھی یکم جنوری سے جاری کرنے کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔ ایکسائز حکام کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران کوڑا ٹیکس کی مد میں 2 کروڑ 40 لاکھ روپے جمع کیے گئے ہیں، جبکہ لاہور سمیت پنجاب بھر میں اب تک 14 لاکھ بلز تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کوڑا ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر جائیداد کی خرید و فروخت کے لیے این او سی حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا ۔ واضح رہے کہ پنجاب بھر میں یکم ستمبر سے کوڑا ٹیکس کے بلز کا اجرا شروع کیا گیا تھا۔ شہری ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر اپنا پراپرٹی نمبر درج کرکے آن لائن بل بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ حکام کے مطابق پہلی سہ ماہی کے باقی ماندہ بلز بھی جلد تقسیم کیے جائیں گے۔ بتایا گیا ہے کہ دیہی علاقوں میں 3 سے 5 مرلہ گھروں پر ماہانہ 200 روپے، 10 مرلہ یا اس سے بڑے گھروں پر 400 روپے، چھوٹے کاروبار پر 300 روپے، درمیانے کاروبار پر 700 روپے، جبکہ بڑی صنعتوں اور فیکٹریوں پر ایک ہزار روپے ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ اسی طرح شہری علاقوں میں 5 مرلہ تک کے گھروں پر ماہانہ 300 روپے، 5 سے 10 مرلہ تک 500 روپے، 10 مرلہ سے ایک کنال تک ایک ہزار روپے، ایک سے 3 کنال تک 2 ہزار روپے اور 3 کنال سے بڑے گھروں پر 5 ہزار روپے کوڑا ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ تجارتی علاقوں میں دکانوں پر ماہانہ 500 روپے، درمیانے کاروبار پر ایک ہزار روپے، جبکہ بڑی صنعتوں، کاروباری مراکز اور فیکٹریوں پر 3 ہزار روپے ٹیکس عائد ہوگا۔ محکمہ بلدیات کے سیکریٹری میاں شکیل احمد کے مطابق یہ منصوبہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایات پر شروع کیا گیا ہے، جس کا مقصد دیہی علاقوں کو بھی شہری علاقوں جیسی صفائی کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے گھر گھر سے کچرا جمع کرنے کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ یکم جولائی سے رہائشیوں اور کاروباری اداروں سے سروس چارجز کی وصولی شروع ہو جائے گی۔ اس حوالے سے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔