پاکستانی سوشل میڈیا انفلوئنسر کنول آفتاب نے مقامی فیشن برانڈز کی جانب سے مختصر اور نامناسب کٹ والے ملبوسات متعارف کرانے کے بڑھتے رجحان پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے برانڈز کو صارفین کی مختلف پسند اور ضروریات کا خیال رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔
کنول آفتاب نے سوشل میڈیا پر جاری اپنی ایک ویڈیو میں کہا کہ پاکستانی فیشن انڈسٹری کو صرف ایک مخصوص طرز کے لباس پسند کرنے والے صارفین کو مدنظر رکھنے کے بجائے ان افراد کے لیے بھی ملبوسات تیار کرنے چاہئیں جو مکمل، ڈھیلے ڈھالے اور باپردہ لباس پہننا پسند کرتے ہیں۔
اپنی پسند کے مطابق لباس تلاش کرنا مشکل ہوگیا
انفلوئنسر نے اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ کسی مقامی برانڈ سے لباس خریدنے کے لیے رابطہ کرتی ہیں اور آستینیں لمبی کرنے یا لباس کی پشت کو مکمل طور پر ڈھانپنے کی درخواست کرتی ہیں تو انہیں اکثر جواب ملتا ہے کہ تیار شدہ لباس میں کسی قسم کی تبدیلی ممکن نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی پسند کا لباس تلاش کرنے کے لیے سینکڑوں برانڈز دیکھ چکی ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں اپنی ضرورت اور ترجیحات کے مطابق ملبوسات ملنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔کنول آفتاب نے کہا کہ ہر صارف کی اپنی پسند، سوچ اور لباس پہننے کا انداز ہوتا ہے، اس لیے فیشن برانڈز کو چاہیے کہ وہ مختلف طبقات کی ضروریات کو سمجھیں اور اپنی کلیکشن میں زیادہ متنوع ڈیزائن شامل کریں۔
روایتی پاکستانی لباس کو بھی دی جائے اہمیت
کنول آفتاب کے مطابق مقامی برانڈز کو جدید فیشن کے ساتھ روایتی پاکستانی لباس کے ڈیزائنوں کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔ ایسے ملبوسات متعارف کرائے جانے چاہئیں جو مکمل آستینوں، مناسب لمبائی اور باوقار انداز کے خواہش مند صارفین کے لیے موزوں ہوں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فیشن کا مطلب صرف نئے رجحانات اپنانا نہیں بلکہ صارفین کی انفرادی پسند کا احترام کرنا بھی ہے۔ برانڈز کو ایسی کلیکشنز پیش کرنی چاہئیں جن میں مختلف طرزِ زندگی اور ترجیحات رکھنے والے افراد کو اپنی پسند کے لباس کا انتخاب کرنے کا موقع مل سکے۔
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے حمایت
کنول آفتاب کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے ان کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ مقامی فیشن برانڈز کو اپنی کلیکشن میں ایسے ملبوسات بھی شامل کرنے چاہئیں جو مکمل اور روایتی لباس پسند کرنے والے افراد کی ضروریات پوری کر سکیں۔