سارہ شریف قتل کیس: سوتیلی ماں ہی اصل ولن، پاکستانی نژاد والد کا عدالت میں بیان

 بیٹی کی جان بچانے اور ایمبولنس منگوانے کی پوری کوشش کی لیکن بتایا گیا کہ چھوڑ دو، وہ مر چکی ہے،عرفان شریف
 لندن(آئی این پی )برطانیہ میں اپنی 10 سالہ بیٹی سارہ شریف کے قتل کے الزام میں گرفتار پاکستانی نژاد والد نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے اپنی بیٹی کی جان بچانے اور ایمبولنس منگوانے پوری کوشش کی تھی لیکن انھیں بتایا گیا کہ چھوڑ دو، وہ مر چکی ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ دعویٰ سارہ کے والد عرفان شریف نے مقدمہ کی سماعت کے دوران عدالت میں کیا ہے۔ عرفان کے وکیل کے مطابق انھوں نے سی پی آر (سانس لینے کے عمل کو بحال کرنے کی کوشش ) کی اور ایمبولنس منگوانے کی کوشش کی۔ نعیم میاں نے عدالت میں کہا کہ بینش بتول نے عرفان سے اردو یا پنجابی زبان میں کہا کہ چھوڑ دو، وہ مر چکی ہے۔ نعیم میاں نے یہ بھی کہا کہ ڈسپلن کے لیے بچوں کو جسمانی سزا دینا عرفان شریف کا آخری حربہ تھا۔نعیم میاں نے کہا کہ سارہ کو نہ تو کرکٹ بیٹ سے اور نہ ہی ڈنڈے سے پیٹا جاتا تھا جیسا کہ دعویٰ کیا گیا بل کہ اس کی جگہ تھپڑ تھا۔عرفان شریف کے وکیل کا موقف تھا کہ سارہ کی موت کی ذمہ دار بینش بتول تھیں اور عرفان نے پولیس کو فون کرنے کے بعد جھوٹا اعتراف جرم کیا اور پھر ایک نوٹ بھی لکھا جس کا مقصد اپنی بیوی کو بچانا تھا۔عرفان شریف نے عدالت میں کہا کہ سارہ ایک خوبصورت فرشتہ تھی، بہت پیاری اور وہ بڑی ہو کر بیلے ڈانسر بننا چاہتی تھی۔عرفان شریف نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے چند مواقع پر سارہ کو تھپڑ مارا تھا۔ میری زندگی میں بہت خامیاں ہیں، لیکن میں نے اسے کبھی نہیں مارا، کبھی نہیں۔ عرفان نے اس بات کی بھی تردید کی کہ وہ اپنی اہلیہ بتول کو کنٹرول کرتے تھے۔ عرفان نے کہا کہ ان کا رشتہ روایتی تھا اور گھر میں ان کی اہلیہ ہی باس تھیں