ڈونلڈ ٹرمپ کے ’پروجیکٹ فریڈم‘ پر اچانک تبدیلی کی اصل وجہ بے نقاب

ڈونلڈ ٹرمپ کے ’پروجیکٹ فریڈم‘ پر اچانک تبدیلی کی اصل وجہ بے نقاب

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے متنازع منصوبے ’پروجیکٹ فریڈم‘ پر اچانک یوٹرن لینا پڑ گیا، جس کی وجہ سعودی عرب کی جانب سے فوجی تعاون اور فضائی حدود کے استعمال سے انکار بتایا جا رہا ہے۔  
امریکی ٹی وی چینل این بی سی نیوز نے حکام کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ وہ پرنس سلطان ایئر بیس سے امریکی طیاروں کی پرواز یا اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔ اس فیصلے کے بعد، امریکی حکام نے اس منصوبے پر عمل درآمد کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔  رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا، مگر معاملہ حل نہیں ہو سکا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ عارضی معطلی ہے تاکہ خطے میں اہم فضائی رسائی برقرار رکھی جا سکے۔  وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ بعض قریبی خلیجی اتحادیوں کو بھی اس منصوبے سے قبل آگاہ نہیں کیا گیا تھا، جس پر حیرانی کا اظہار کیا گیا۔ بعد میں امریکی حکام نے عمانی حکام سے رابطہ کیا اور ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔  
دوسری جانب، مشرق وسطیٰ کے ایک سفارت کار کا مؤقف ہے کہ ریاض اور واشنگٹن کے درمیان رابطے معمول کے مطابق جاری ہیں، اور دونوں ممالک ایران سے متعلق کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں بھی تعاون کر رہے ہیں۔  سفارت کار نے بتایا کہ اتحادیوں کو پہلے ہی اس پیش رفت سے آگاہ کیا گیا تھا۔ امریکی حکام نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے ’پروجیکٹ فریڈم‘ سے متعلق اعلان ٹرمپ کے ذریعے کیا، اور پھر عمانی حکام سے رابطہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس صورت حال میں وہ ناراض نہیں تھے، بلکہ یہ ایک عارضی اور حکمت عملی کا حصہ تھا۔  اس پورے معاملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں امریکی اور سعودی حکام کے بیچ روابط اور مصالحتی کوششیں جاری ہیں، اور اس منصوبے کے حوالے سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کو حل کرنے کے لیے مختلف سطح پر بات چیت ہو رہی ہے۔