ٹرمپ کو ترکیہ سے خفیہ طیارے میں منتقل کرنے کی اصل وجوہات بے نقاب

ٹرمپ کو ترکیہ سے خفیہ طیارے میں منتقل کرنے کی اصل وجوہات بے نقاب

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ترکیہ کے انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران ممکنہ میزائل حملے کے خطرے کے پیش نظر انتہائی خفیہ انداز میں ایک چھوٹے سرکاری طیارے میں منتقل کیا گیا۔

 خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، امریکی خفیہ ادارے سیکریٹ سروس کو اطلاع ملی تھی کہ ایئر فورس ون کو کندھے سے چلائے جانے والے میزائل سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس کے باعث صدر کی حفاظت کے لیے فوری اور غیر معمولی انتظامات کیے گئے۔ذرائع کے مطابق، یہ خطرہ ترکیہ کے دورے کے آخری روز سامنے آیا جب ایران کے ساتھ کشیدگی عروج پر تھی۔ سیکریٹ سروس نے اس حملے کے امکان کو قابلِ اعتبار قرار دیتے ہوئے، صدر کی نقل و حرکت کو خفیہ رکھنے کے لیے ایک چھوٹے سرکاری طیارے میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم، اس حوالے سے یہ واضح نہیں ہے کہ میزائل حملے سے متعلق خفیہ معلومات کہاں سے حاصل ہوئیں، اور حملے کی عملی منصوبہ بندی کے بارے میں بھی کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔رپورٹس کے مطابق، حکام کو حملے کی نیت کے بارے میں صرف معلومات تھی، جن کی بنیاد پر حفاظتی اقدامات کیے گئے۔

ٹرمپ نے نیٹو اجلاس کے بعد واپسی کے دوران پہلے پرانے ایئر فورس ون کے استعمال کا اعلان کیا، مگر بعد میں انہیں ایک چھوٹے فوجی طیارے میں منتقل کیا گیا، تاکہ ان کی اصل حرکت کو چھپایا جا سکے اور حملہ آوروں کو گمراہ کیا جا سکے۔یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ کی بیرون ملک نقل و حرکت اور سکیورٹی کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ امریکی حکام نے اس واقعے کے تفصیلات منظر عام پر نہیں لائیں، مگر ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے ممکنہ خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے، صدر کی حفاظت کے لیے یہ خفیہ کارروائی انجام دی گئی۔