آئینی عدالت نے مری میں 577 کنال اراضی کی الاٹمنٹ منسوخی کیخلاف اپیلیں خارج کردیں
اسلام آباد(آن لائن)وفاقی آئینی عدالت نے پنجاب حکومت کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے مری میں 577 کنال اراضی کی الاٹمنٹ منسوخی کیخلاف اپیلیں خارج کر دی ہیں اور 40 ارب روپے سے زائد مالیت کی اراضی کا قبضہ پنجاب حکومت کو دینے کی ہدایت کی ہے۔بدھ کوجسٹس عامر فاروق کی سر براہی میں دو رکنی بنچ نے اپیلوں پر سماعت کی۔اس دوران وکیل درخواست گزار پیش ہوئے اور موقف اختیارکیاکہ کئی دہائیوں بعد زمین کی الاٹمنٹ غیرقانونی کیسے قرار دی جا سکتی ہے؟جس قانون کے تحت الاٹمنٹ غیرقانونی قرار دی گئی وہ اْس وقت بنا ہی نہیں تھا،ایڈیشنل ا یڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کوبتایاکہ سیٹلمنٹ سکیم کے تحت صرف زرعی اراضی ہی الاٹ کی جا سکتی ہے،جو زمین الاٹ کی گئی وہ شہری علاقہ ہے،زمین کی الاٹمنٹ غلط تھی،بنیاد غیرقانونی ہو تو عمارت درست کیسے ہوسکتی، درخواست گزار کا زرعی زمین کے عوظ کوئی دعویٰ بنتا ہے متعلقہ فورم سے رجوع کرے، جسٹس عامرفاروق نے کہاکہ جو زمین الاٹ کی گئی وہ اس وقت کس کے زیر استعمال ہے؟ اس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایاکہ کچھ حصہ پر کوہسار یونیورسٹی بن رہی ہے، کچھ گرلز گائیڈ اور سکاؤٹس کے زیر استعمال ہے،حکومت کے زیر قبضہ زمین عوامی استعمال میں ہے،کچھ زمین کا قبضہ حکومت نے واگزار کروانا ہے، زمین مری بیوٹیفیکیشن پراجیکٹ کیلئے بھی استعمال ہوگی