رفیع صحرائی
پاکستان میں بیماری کبھی بھی صرف جسم کا مسئلہ نہیں رہی؛ یہ اکثر معاشی تباہی کا آغاز بھی بن جاتی ہے۔ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ غریب اور متوسط طبقہ اب بیماری افورڈ کرنے کے قابل نہیں رہا۔ شاعر نے ان حالات کی کیا خوب عکاسی کی ہے
صحنِ غربت میں قضا دیر سے مت آیا کر
خرچ تدفین کا لگ جاتا ہے بیماری پر
ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں ادویات کی قیمتوں میں 200 فیصد تک اضافہ اس تلخ حقیقت کو اور بھی نمایاں کر رہا ہے۔ کینسر، ہیپاٹائٹس، شوگر اور بلڈ پریشر جیسی جان لیوا بیماریوں کی ادویات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ ایک روزنامہ میں شائع ہونے والی سجاد کاظمی کی رپورٹ کے مطابق فروری 2024ء کے حکومتی نوٹیفکیشن کے بعد ادویات ساز کمپنیوں کو قیمتیں مقرر کرنے میں بڑی حد تک آزادی دے دی گئی، جس کا مقصد تو مسابقت پیدا کرنا تھا مگر نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔ مریض کو سستی دوا ملنے کے بجائے کمپنیوں کے گٹھ جوڑ نے قیمتوں کو کئی گنا بڑھا دیا۔ مثال کے طور پر بریسٹ کینسر کے انجکشن کی قیمت تقریباً 23 ہزار سے بڑھ کر 34 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ ہیپاٹائٹس کی دوا، ایم آر آئی میں استعمال ہونے والے انجکشن، کھانسی کے سیرپ، آنکھوں کی کریم اور معدے کی ادویات—سب کی قیمتیں دوگنی اور کہیں کہیں تین گنا ہو چکی ہیں۔
یہ صورتحال صرف مہنگائی کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے صحت کے نظام کی ساخت پر سوالیہ نشان ہے۔
اگر غور کیا جائے تو پاکستان کی ادویات کی مارکیٹ میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے۔ ان کمپنیوں کے پاس سرمایہ، تحقیق اور مارکیٹنگ کی طاقت ہوتی ہے۔ وہ اکثر اپنے برانڈ کو اس انداز میں پیش کرتی ہیں کہ ڈاکٹر اور مریض دونوں اسی کو معیار سمجھنے لگتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عام مریض کو وہی مہنگی دوا خریدنی پڑتی ہے چاہے اس کا متبادل کہیں سستا کیوں نہ موجود ہو۔ مارکیٹنگ کے اس نظام میں ادویات ایک سائنسی ضرورت کے بجائے ایک تجارتی پروڈکٹ بن جاتی ہیں۔ پھر یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بہت سی ادویہ ساز کمپنیاں ڈاکٹروں کو مختلف مراعات دیتی ہیں۔ کبھی غیر ملکی کانفرنسوں کے دورے، کبھی مہنگے تحائف، کبھی لگژری ڈنر اور کبھی دیگر مالی مراعات۔ بدلے میں ڈاکٹر اکثر مخصوص کمپنیوں کی ادویات لکھتے ہیں۔ یوں مریض کو وہ دوا تجویز کی جاتی ہے جو طبی ضرورت سے زیادہ کمپنی کے مفاد کے
مطابق ہوتی ہے۔ یہ بھی اکثر دیکھنے اور سننے میں آیا ہے کہ ڈاکٹر مریض کو ایسی ادویات بھی تجویز کر دیتے ہیں جن کا مریض کی بیماری سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔ اسی طرح میڈیکل اسٹورز کو بھی مختلف قسم کے انسینٹیوز دیے جاتے ہیں تاکہ وہ مخصوص کمپنی کی دوا فروخت کریں۔ جب دوا علاج کے بجائے مارکیٹنگ کا حصہ بن جائے تو اس کا خمیازہ ہمیشہ مریض کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف ملٹی نیشنل کمپنیوں تک محدود نہیں رہا۔ اب مقامی ادویہ ساز کمپنیاں بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہیں۔ کئی کمپنیاں معمولی تحقیق کے ساتھ دواؤں کے نئے برانڈ متعارف کروا دیتی ہیں اور قیمتیں آسمان پر رکھتی ہیں۔ مسابقت کے نام پر شروع ہونے والا نظام مریضوں کے استحصال کا بازار بن گیا ہے۔
پاکستان میں ایک اور تشویش ناک پہلو یہ بھی ہے کہ بعض سیاست دان خود ادویہ ساز کمپنیوں کے مالک یا حصہ دار ہیں۔ جب قانون بنانے والے ہی اس صنعت کے مفادات سے جڑے ہوں تو پھر سخت ریگولیشن کی توقع کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ مفادات کا ایسا ٹکراؤ ہے جس میں عوامی صحت اکثر پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ ادویات کی مہنگائی کا ایک اور خطرناک نتیجہ جعلی ادویات کی بڑھتی ہوئی مارکیٹ ہے۔ جب اصل دوا مریض کی پہنچ سے باہر ہو جائے تو بازار میں نقلی اور غیر معیاری دواؤں کے لیے جگہ پیدا ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں وقتاً فوقتاً ایسی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں کہ جعلی یا غیر معیاری ادویات کے باعث مریضوں کی جانیں خطرے میں پڑ گئیں۔ یہ مسئلہ صرف صحت کا نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکا ہے۔
صحت کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ادویات کو مکمل طور پر آزاد منڈی کے حوالے کر دینا ایک خطرناک تجربہ ثابت ہو رہا ہے۔ حکومت کا مقصد تو یہ تھا کہ مسابقتی جذبے کے تحت ادویہ ساز کمپنیاں اپنی پراڈکٹ کا معیار بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ قیمتیں کم کر کے مریضوں کو ریلیف دیں گی لیکن ہوا اس کے برعکس ہے۔ قیمتوں پر موثر نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے طاقتور کمپنیوں نے آپس میں گٹھ جوڑ کر کے کمزور مریضوں کا استحصال شروع کر دیا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ادویات کی قیمتوں کے تعین کا شفاف اور سخت نظام بنایا جائے۔ اس کیساتھ ساتھ ڈاکٹروں اور فارما کمپنیوں کے تعلقات کو قانون کے ذریعے محدود کیا جائے۔ جعلی ادویات کی روک تھام اور ان کی تیاری میں ملوث افراد اور کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور صحت کو منافع کے بجائے انسانی حق سمجھا جائے۔
آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا دوا واقعی علاج کے لیے بن رہی ہے یا صرف کاروبار کے لیے؟
جب تک اس سوال کا دیانت دارانہ جواب تلاش نہیں کیا جاتا، تب تک مریض مہنگی ادویات، جعلی دواؤں اور بے رحم مارکیٹ کے درمیان پس کر رہ جائے گا اور ایک فلاحی ریاست کا خواب صرف تقریروں تک محدود رہے گا۔