طاقت،تدبیر اور تدبیر

سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
دراصل ایران اس تنازع کوصرف امریکاواسرائیل تک محدودنہیں رکھناچاہتابلکہ اس تنازع کووسیع تربناناچاہتاہے۔تاکہ جنگ کی قیمت سب اداکریں،اورجنگ کے خاتمے کی آوازیں خودانہی دارالحکومتوں سے بلندہوں جوآج محتاط خاموشی اختیارکیے ہوئے ہیں۔اس حکمتِ عملی کامقصدیہ ہوسکتاہے کہ خلیجی دارالحکومت خودامریکاپردباؤڈالیں کہ وہ مہم جوئی ترک کرے۔ایران کی حکمت عملی میں ’’دائرہ وسیع کرنے‘‘کاعنصرموجودہے،تاکہ کسی ایک فریق پرانحصارنہ رہے۔اگرسب متاثرہوں گے توسب متحرک بھی ہوں گے یہی اس سوچ کی بنیادہے۔
ایرانی حملوں سے اگرچہ خلیجی انفراسٹرکچر کومحدود نقصان پہنچا،تاہم یہ تاثرابھراکہ ایران شدیددباؤمیں ہے۔جب کوئی ریاست یہ محسوس کرے کہ کھونے کوکچھ نہیں رہاتواس کے اقدامات زیادہ جرات مند بلکہ بعض اوقات مایوس کن ہوسکتے ہیں۔متحدہ عرب امارات میں رہائشی عمارتوں کونقصان اورکویت ایئرپورٹ پرحملے نے یہ تاثرپیداکیاکہ ایران ایک نازک موڑپرہے۔تاہم خلیجی ممالک غالبابراہِ راست جواب دینے کے بجائے دفاعی تیاریوں کوترجیح دیں گے۔جنگ کے ہنگام میں بعض اوقات صبربھی سب سے بڑاہتھیار ہوتا ہے۔ایران کی داخلی کیفیت کایہ عالم ہے کہ ایرانی معاشرہ معاشی پابندیوں،مہنگائی اورسماجی بے چینی سے دوچارہے۔بیرونی تصادم بعض اوقات داخلی وحدت پیداکرنے کاذریعہ بنتا ہے ۔تاہم اگرنقصانات بڑھیں تویہی حربہ الٹابھی پڑسکتاہے۔اس لیے تہران کیلئیتوازن برقرار رکھنانہایت اہم ہے۔
ٹرمپ نے واضح کیاکہ ایران میں حکومت کی تبدیلی ان کاہدف ہے۔ٹرمپ کاحکومت کی تبدیلی کااعلان دراصل ایران کے سیاسی ڈھانچے کوچیلنج کرنے کی کوشش ہے۔حکومت کی تبدیلی کی بات دراصل ایک نفسیاتی دباؤبھی ہے اورسیاسی عزم کااظہاربھی۔ان کا یہ بیان کہ ایرانی عوام سڑکوں پرنکلیں،ایک داخلی بغاوت کی تمناکاعکاس ہے مگرتاریخ گواہ ہے کہ بیرونی دباؤسے پیدا ہونے والی تبدیلی جہاں اکثرطویل افراتفری کاپیش خیمہ اورناپائیدارہوتی ہے وہاں غیرمتوقع نتائج لاتی ہے۔عراق اورلیبیا کی مثالیں سامنے ہیں۔ ایران جیسے مضبوط ریاستی ڈھانچے میں فوری انہدام کاامکان کم،مگر طویل بے یقینی کاامکان زیادہ ہے۔
امریکی ٹھنک ٹینک سٹیمسن سنٹر کی ریسرچ سکالرباربراسلاون نے خبردارکیاتھاکہ سینیئرایرانی عہدیداران حتی کہ رہبرِاعلی بھی نشانہ بن سکتے ہیں،اگرسینیئر قیادت کونشانہ بنایاگیاتواس کے بعدیاتومزیدسخت گیر قیادت ابھرے گی یاطویل بدامنی جنم لے گی۔ ریاستی ادارے فوج،پاسدارانِ انقلاب،عدلیہ ایک مضبوط نیٹ ورک کی صورت موجودہیں،جواچانک خلا کو پرکرسکتے ہیں۔اس سے ظاہرہوتاہے کہ قیادت کی تبدیلی ہمیشہ نظام کی تبدیلی نہیں لاتی۔
امکان ہے کہ امریکااوراسرائیل ایران کی میزائل وجوہری صلاحیتوں کومحدود اورکمزورکرنے پرتوجہ مرکوزرکھیں گے وسیع پیمانے پرعسکری اورسویلین قیادت کونشانہ بنانا،فوری سیاسی خلاپیداکرنااوراندرونی احتجاج کوہوادینا،ایک تدریجی حکمت ہوسکتی ہے مگریہ راستہ باریک بھی ہے اورپرخطربھی۔پینٹاگون کی منصوبہ بندی بظاہرایران کی میزائل،ڈرون اور جوہری تنصیبات کی صلاحیت گھٹانے پرمرکوزہے۔یہ’’صلاحیت کم کرو‘‘کی حکمت ہے،نہ کہ لازما’’نظام بدل دو‘‘کی۔ تاہم دونوں کے بیچ لکیرباریک ہے۔
خلیجی قیادتیں سمجھتی ہیں کہ یہ جنگ ان کے دروازے تک آپہنچی ہے،جبکہ ان کی ترجیح اقتصادی استحکام اورعلاقائی ترقی تھی۔ان کیلئے یہ بحران ایک غیرمطلوب بوجھ ہے۔خلیجی ریاستیں اگرچہ امریکی سکیورٹی فریم ورک کاحصہ ہیں،مگروہ یہ بھی سمجھتی ہیں کہ کشیدگی کی قیمت انہیں اداکرنی پڑتی ہے۔مشرقِ وسطی کے ممالک اس جنگ سے ہی نہیں بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کی حکمتِ عملی سے بھی مایوس دکھائی دیتے ہیں۔تعلقات میں فوری بہتری کی امیدکمزورپڑچکی ہے،مگراس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ واشنگٹن کے ہر اقدام کے ہم نواہوں گے۔ اسی لیے وہ یک طرفہ وابستگی کے بجائے متوازن خارجہ پالیسی اپنانے کی کوشش کرتی ہیںچین اورروس کے ساتھ روابط اسی تناظرمیں دیکھے جاسکتے ہیں۔
حالیہ حملوں نے مذاکرات کی بساط لپیٹ دی ہے۔سفارت کاری کی شمع مدھم ہوچکی ہے اورخطہ نئی آگ کی لپیٹ میں آتامحسوس ہوتا ہے۔حملوں کے بعدمذاکراتی عمل تعطل کاشکارہو گیا ہے۔مذاکراتی راستے وقتی طورپرمسدود ضرورہوئے ہیں،مگرعمان،قطراوربعض یورپی ممالک پسِ پردہ رابطوں میں کرداراداکرسکتے ہیں۔تاریخ بتاتی ہے کہ شدیدتصادم کے بعدہی کبھی کبھی مفاہمت کی کھڑکی کھلتی ہے۔یادرہے کہ جب توپیں بولتی ہیں توسفارت کارخاموش ہوجاتے ہیںیہ تاریخ کاالمیہ ہے۔
ایران میں تبدیلی کی خواہش ایک ایساجواہے جونہ صرف خودامریکی سیاست میں طوفان اٹھاسکتاہے بلکہ خودامریکی سیاست میں اختلافات کوہوادے سکتاہے۔امریکامیں عوامی رائے بیرونی جنگوں کے حوالے سے منقسم ہے۔اگرجنگ طویل ہوئی،نتائج توقع کے مطابق نہ نکلے توصدر کی ساکھ مجروح  اورانتخابی سیاست پراثرات پڑسکتے ہیں جس سے عوامی حمایت میں کمی آسکتی ہے۔ معاشی دبا،بجٹ خسارہ اورافراطِ زرجیسے مسائل رائے دہندگان کے فیصلوں پراثرانداز ہوں گے۔۔
ٹرمپ نے ایک بڑاداؤکھیلا  ہے،ٹرمپ کی حکمتِ عملی فوجی طاقت کے ذریعے خطے کوازسرِنو ترتیب دینے کی کوشش اوردیرینہ خواب ہے ایک ایساخواب جوماضی میں بھی دیکھاگیا مگرمکمل تعبیرنہ پاسکا۔جس میں ماضی کے کئی امریکی صدورناکام رہے۔ مشرقِ وسطی کوطاقت کے ذریعے’’ری انجینئر‘‘کرنے کی سوچ نئی نہیں۔مگرعراق اورافغانستان کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ عسکری برتری سیاسی استحکام کی ضمانت نہیں ہوتی۔ایران کاریاستی ڈھانچہ عراق سے کہیں زیادہ مربوط ہے،اس لیے نتائج بھی مختلف ہو سکتے ہیں۔
اگرفضائی طاقت ایران کی جوہری صلاحیت کومفلوج کردے یااگرایران کی جوہری پیش رفت عارضی طورپررک بھی جائے اورتہران میں اقتداربدل جائے،خواہ بعدکانقشہ مبہم ہی کیوں نہ ہوتوسوال باقی رہے گاکہ بعدازاں کیاہوگا؟ کیاکوئی واضح سیاسی منصوبہ موجود ہے یاصرف عسکری فتح پراکتفاکیاجائے گا؟ کیایہ پائیدارحل ہے؟اوراگر قیادت تبدیل ہو بھی جائے توکیا نئی قیادت عالمی برادری سے ہم آہنگ ہوگی یامزید خودمختارراستہ اپنائے گی؟
پینٹاگون نے اس کارروائی کو’’آپریشن ایپک فیوری‘‘کانام دیاہے۔اگریہ آگ پھیل گئی تونومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن جماعت کے امکانات متاثرہوسکتے ہیں۔ امریکی عوام بیرونی مہمات کے بارے میں منقسم رائے رکھتے ہیں۔ٹرمپ کایہ کہناکہ’’امریکی ہیروزکی جانیں جاسکتی ہیں‘‘دراصل اس خطرے کااعتراف ہے کہ یہ معرکہ طویل بھی ہوسکتاہے اورمہنگابھی۔ایک امریکی اخبارکو انٹرویودیتے ہوئے انہوں نے امریکی فوجیوں کی ہلاکت کااعتراف بھی کیاہے اورساتھ ہی یہ اعلان کہ وہ آئندہ ایرانی سربراہ سے بات چیت کرنے کیلئے تیارہیں،دراصل حقائق کوچھپانے کی ایک چال ہے۔
امریکاکودوبارہ عظیم بنانے کا نعرہ داخلی استحکام پرزوردیتاہے۔اگربیرونی مداخلت اس تصورسے متصادم ہوئی توصدرکواپنے حامیوں کوقائل کرنامشکل ہوسکتاہے۔امریکاکودوبارہ عظیم بنانے کے نظریے کے حامی کیاایک نئی بیرونی مہم جوئی کوقبول کریں گے؟مہنگائی اورداخلی مسائل کے بیچ یہ سوال ٹرمپ کیلئے کڑاامتحان بن سکتاہے۔جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کے بعض سینیئراہلکارایران پر بڑے آپریشن سے متحفظ اورحق میں نہ تھے۔عسکری توسیع اورعوامی دھمکیوں کے درمیان پالیسی اختلافات ابھر آئے تھے جواس امرکی نشاندہی کرتے ہیں کہ فیصلہ سازی کے عمل میں مکمل ہم آہنگی نہیں تھی اورفیصلہ یک رائے نہ تھا۔
آبنائے ہرمزکی جغرافیائی ومعاشی اہمیت بھی اس جنگ میں فیصلہ کن کردارادا کرنے میں معاون ہوسکتی ہے۔خلیج فارس کوبحرِعمان سے ملاتی ہے۔آبنائے ہرمجوایک عالمی اقتصادی شہ رگ ہے۔یہ تقریبا21میل چوڑاتنگ راستہ ہے جس سے یومیہ لاکھوں بیرل خام تیل گزرتاہے۔عالمی تیل تجارت کاتقریبابیس سے تیس فیصداسی راستے سے گزرتاہے۔ اور بالخصوص سعودی عرب،کویت،یواے ای،عمان اورقطرکا90فیصد تیل اوردیگرتوانائی ایل این پی جی کاروٹ یہی ہے،یہ ممالککب تک اس کی بندش سے عظیم مالی خسارہ برداشت کرسکیں گے اوراس کے ساتھ ہی ان ملکوں کا مکمل فضائی نیٹ ورکس بھی منجمدہوگئے ہیں اورروزانہ ہزاروں ملین ڈالرکی آمدن بھی اچانک رک گئی ہے۔اس کے بندہوجانے پر عالمی توانائی منڈی میں شدید بحران پیداہوسکتاہے،ایشیائی معیشتیں فوری متاثرہوں گی اوریورپ کومتبادل راستوں کی تلاش کرناپڑے گی۔(جاری ہے)