طاقت،تدبیر اور تدبیر

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
تاریخ کے بعض موڑایسے ہوتے ہیں جب زمانہ اپنے قدم روک کرسانس لیتاہے،اوراقوام کی تقدیرچندفیصلوں کے پلڑے میں رکھ دی جاتی ہے۔آج مشرقِ وسطی ایک ایسے ہی دہانے پرکھڑاہے جہاں طاقت کی زبان،نظریے کی آگ،معیشت کی نبض اورسفارت کی سانس ایک دوسرے میں الجھ کرایک پیچیدہ گرہ بناچکی ہیں۔آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتباہی بیانات،ٹرمپ کے جارحانہ عزائم،پینٹاگون کی عسکری منصوبہ بندی،اورآبنائے ہرمزوآبنائے مندب جیسے آبی راستوں کی حساسیت یہ سب مل کرایک ایسامنظرنامہ ترتیب دے رہے ہیں جس میں صرف گولیاں نہیں چل رہیں،بلکہ عالمی سیاست کی بساط بھی ازسرِنوبچھائی جارہی ہے۔
یہ محض ایران اورامریکایااسرائیل کاتصادم نہیں؛یہ نظریاتی اصراراورعالمی مفادات کی کشمکش ہے۔ایک طرف انقلاب کاتسلسل ہے، دوسری جانب عالمی برتری کادعوی۔ایک طرف مزاحمت کابیانیہ ہے،دوسری طرف"نظام کی تبدیلی"کااعلان۔سوال یہ نہیں کہ کس کے پاس زیادہ اسلحہ ہے؛سوال یہ ہے کہ کس کے پاس زیادہ صبر،زیادہ تدبراورزیادہ دوراندیشی ہے۔اس بحران کی تہہ میں صرف عسکری حکمتِ عملی نہیں بلکہ داخلی سیاست،عالمی توانائی منڈی،خلیجی ریاستوں کی بے چینی،اور عالمی طاقتوں کی صف بندی بھی شامل ہے۔اگر آبنائے ہرمزکی موجوں میں اضطراب پیداہوتاہے تواس کی بازگشت ٹوکیو،بیجنگ،برلن اورنئی دہلی تک سنائی دے گی۔اگرباب المندب کادروازہ لرزتاہے تویورپ کی منڈیاں بھی کانپ اٹھیں گی۔
یہ مضمون انہی تمام پہلوں کویکجاکر کے پیش کرتاہے ،ایسے انداز میں کہ قاری نہ صرف واقعات کی ترتیب سمجھے بلکہ ان کے باطن میں پوشیدہ معنی بھی دریافت کرے۔ یہاں الفاظ محض خبرنہیں سناتے،بلکہ زمانے کی دھڑکن سناتے ہیں؛یہاں تجزیہ صرف اعداد وشمار نہیں گنواتا،بلکہ تاریخ کے آئینے میں حال کاعکس دکھاتاہے۔آئیے،اس داستان کوسرسری نگاہ سے نہیں بلکہ غوروفکرکی آنکھ سے پڑھیںکیونکہ جو کچھ آج رقم ہورہاہے،وہ کل کی تاریخ کاعنوان بن سکتاہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہفتوں پیشترجس لہجے میں تنبیہ محض عسکری بیان نہ تھی بلکہ ایک نظریاتی اعلان جومحض سیاسی بیان نہ تھابلکہ تاریخ کے اوراق پرثبت ایک پیشگوئی تھی۔ انقلابِ ایران کے بعدسے ایرانی قیادت یہ مؤقف اپنائے ہوئے ہے کہ وہ خودکو محض ایک قومی ریاست نہیں بلکہ ایک انقلابی مرکزسمجھتی ہے۔آیت اللہ علی خامنہ ای نے جس لہجے میں پیشگی خبردارکیاتھا،اس میں محض سیاسی عتاب نہ تھابلکہ ایک اسٹریٹجک اعلان مضمرتھا۔انقلابِ ایران کی سینتالیسویں سالگرہ پران کایہ اعلان کہ’’اگرامریکا نے جنگ شروع کی تو یہ پورے خطے تک پھیل جائیگی"گویا آتشِ زیرِخاکستر پرپھونک تھا‘‘۔ 
چنانچہ جب خامنہ ای نے کہا کہ جنگ پورے خطے تک پھیلے گی تواس کامفہوم یہ تھاکہ ایران اپنی جغرافیائی حدودسے باہربھی اثر اندازہونے کی صلاحیت رکھتاہے خواہ وہ سیاسی نیٹ ورکس ہوں یامسلح گروہ۔ایران خودکو محصورنہیں ہونے دے گا۔یہ اعلان دراصل’’جوابی پھیلاؤ‘‘کی حکمت کااشاریہ تھایعنی حملہ اگرمرکزپرہوگاتوارتعاش محیط تک جائے گا۔آج جب امریکی واسرائیلی حملوں کے جواب میں تہران نے اپنے وعدوں کوعملی جامہ پہنایاہے تومحسوس ہوتاہے کہ الفاظ نے بارودکی صورت اختیارکرلی ہے، اوروعید،واقعہ بن چکی ہے ۔ ایرانی قیادت نے داخلی سطح پراس بیانیے کومزاحمتی وقارکے ساتھ جوڑا،تاکہ قوم کویہ احساس رہے کہ وہ دفاعی نہیں بلکہ فعال پوزیشن میں ہے۔
ایران کے میزائل جب سعودی عرب،کویت،بحرین،قطراورمتحدہ عرب امارات کی فضامیں گونجے تویہ محض ردِعمل نہ تھابلکہ ایک جغرافیائی پیغام تھا۔یونائیٹڈ اسٹیٹس ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس کے مطابق مشرقِ وسطی میں تقریباچالیس ہزارامریکی اہلکارتعینات ہیں۔قطر میں العدیدایئربیس کمانڈوکنٹرول کامرکزجوامریکا کیلئے فضائی آپریشنزکامرکزی اعصابی مرکز ہے ،بحرین میں پانچویں بحری بیڑے کی موجودگی،کویت میں بری اوربحری تنصیبات،اوراردن میں ٹاور22جیسی چوکیوں کاجال،سعودی عرب میں دفاعی اڈے،ایک ایساحصار بناتے ہیں جوایران کوچاروں طرف سے گھیرتامحسوس ہوتاہے۔ایران کی نظرمیں یہ محض دفاعی انتظام نہیں بلکہ اس کے خلاف ایک مستقل عسکری دبااورایک وسیع عسکری جال کی مانند پھیلے ہوئے ہیں۔
یونائیٹڈاسٹیٹس ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس کی اطلاعات کے مطابق یہ موجودگی محض علامتی نہیں بلکہ فیصلہ کن ہے۔کویت،سعودی عرب، بحرین،عراق،شام اورمصر میں امریکی اڈے اس امرکاثبوت ہیں کہ خطہ ایک عسکری شطرنج بن چکاہے جہاں ہرمہرہ کسی بڑے دا کاحصہ ہے جوایران کیلئے ایک مسلسل نگرانی اورفوری ردِعمل کاامکان پیداکرتاہے۔اس بندوبست کوتہران’’گھیراکی سیاست‘‘کے طور پردیکھتاہے۔۔
یہ سوال کہ ایران خلیجی ممالک کوکیوں نشانہ بنارہاہے،دراصل اس بڑے سوال کاجزوہے کہ جنگ کی حدبندی کون کرے گا؟ایران شاید یہ باورکراناچاہتاہے کہ اگراس کے خلاف محاذ کھولاگیاتواس کی تپش صرف تہران تک محدود نہ رہے گی۔ایران کی کارروائیوں کو ’’توازنِ خوف‘‘کی حکمتِ عملی کے تحت سمجھاجاسکتاہے۔ تہران یہ باورکراناچاہتاہے کہ اگراس کے خلاف حملہ ہواتو اس کی قیمت پوراخطہ اداکرے گا۔یہ وہی منطق ہ ے جوسردجنگ کے دورمیں’’ڈیٹرنس‘‘کہلاتی تھی ،دوسرے فریق کونقصان کے خوف سے روکنا۔گویا ایران وہی کررہاہے جس کااعلان کیاتھا"’’اگرہمیں گھیرامیں لیاگیاتوحصارکی دیواریں بھی محفوظ نہ رہیں گی‘‘۔
ایران کی جانب سے خلیجی ریاستوں میں موجودامریکی تنصیبات کی سمت کارروائی دراصل براہِ راست امریکاکونہیں بلکہ’’میزبانوں‘‘کومخاطب کرنے کااندازہے۔مقصدیہ باور کرانا کہ عسکری شراکت داری کی قیمت مقامی سلامتی سے اداہوسکتی ہے۔یہ ایک طرح کی ’’الواسطہ بازگشت‘‘ہے ریاض،ابوظہبی،قطر،اردن اوردوحہ پردبا ؤ،دراصل واشنگٹن کوپیغام دیا گیاہے۔ 
سعودی عرب،متحدہ عرب امارات،کویت، بحرین اورقطران سب کیلئے معیشت اولین ترجیح ہے۔ان کی توانائی تنصیبات،بندرگاہیں اور شہری ڈھانچے کسی بھی طویل کشیدگی کے متحمل نہیں۔خلیجی ممالک کیلئے یہ صورتِ حال دودھاری تلوارہے۔ایک طرف وہ امریکی دفاعی چھتری کے محتاج ہیں،دوسری طرف وہ ایران کے ساتھ کھلی جنگ نہیں چاہتے،اگر حملے امریکی اہداف تک محدودرہیں اور تیل کی تنصیبات محفوظ رہیں توغالب امکان ہے کہ وہ براہِ راست تصادم سے گریزکریں گی۔اسی لیے بظاہرمذمتی بیانات کے باوجود عملی سطح پر ان کی کوشش یہی ہوگی کہ تصادم کی لکیران کے شہروں سے دوررہے جبکہ پسِ پردہ دفاعی تیاریوں میں اضافہ اور پسِ پردہ کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں مصروف رہ سکتے ہیں یہی متوقع راستہ ہے۔سیاست میں بعض اوقات خاموشی بھی حکمت ہوتی ہے،اوراحتیاط بھی ایک اعلان ہوتاہے۔
ایران کی کارروائیوں کافوری اثرعالمی منڈی پرپڑتاہے۔اگررسد میں معمولی خلل بھی آئے توقیمتوں میں تیزی آسکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایرانی اقدام کاپہلاارتعاش عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اضافے کی صورت نمودارہواہے۔عراق میں شیعہ مسلح گروہوں کی ممکنہ سرگرمیاں امریکی تنصیبات کیلئے اضافی خطرہ اوراسرائیلی اہداف کیلئے نئی آزمائش بن سکتی ہیں جس سے سرمایہ کاروں کا اعتمادمزید متزلزل ہوگا۔گویاجنگ کادائرہ محض سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ معیشت کی نبض تک پھیل چکاہے۔عالمی توانائی منڈی میں شدید اضطراب کی لہریں دکھائی دے رہی ہیں۔تیل اورگیس کی رسدمیں معمولی خدشہ بھی قیمتوں کواوپرلے جاتاہے۔ایشیاکی صنعتی معیشتیںخصوصاچین،جاپان اورجنوبی کوریاخلیجی رسد پر انحصارکرتی ہیں۔یورپ،جو پہلے ہی توانائی کے بحرانوں سے گزرچکاہے،مزید عدمِ استحکام کامتحمل نہیں ہوسکتاچنانچہ یہ تنازع محض علاقائی نہیں بلکہ بین البراعظمی اثرات رکھتا ہے 
دراصل ایران نے پیشگی اعلانات کے مطابق مرحلہ وارردِعمل اپنایاہے۔اس سے ظاہرہوتاہے کہ تہران نے اپنے بیانیے کوعمل سے جوڑنے کی کوشش کی تاکہ ساکھ برقراررہے۔اس حکمتِ عملی سے خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات متاثرہوں گے،تاہم ایران پہلے ہی خبردارکرچکاتھاکہ اگ وہ امریکی قیادت کوحملوں سے نہ روک سکے تونتائج کیلئے تیاررہیں۔بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ دبا ؤکی سیاست اورردِعمل خلیجی ممالک پرسیاسی دباڈالنے کی کوشش بھی ہوسکتاہے تاکہ خطے کے ممالک خودجنگ بندی کی وکالت اورواشنگٹن کوجنگ کے خاتمے پرآمادہ کریں۔(جاری ہے)