مارشل لاء کے اقدام کی توثیق میں عدلیہ کا بھی کردار ہے جسٹس جمال خان مندوخیل

 سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل نہیں ہونا چاہیے، آرمی ایکٹ کی شقوں کو غیر آئینی قرار نہیں دیا جاسکتا:سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن
مرکزی سوال ہے کیا سویلین کا ملٹری ٹرائل ہو سکتا ہے یا نہیں:جسٹس جمال مندو خیل ‘سماعت پیر تک ملتوی‘حامد خان دلائل دیں گے

اسلام آباد(آن لائن )سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے سویلینز کے ملٹری ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت پیرتک کے لیے ملتوی کردی ہے جبکہ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا  مرکزی سوال یہ ہے  کیا سویلین کا ملٹری ٹرائل ہو سکتا ہے یا نہیں، مارشل لاء کے اقدام کی توثیق میں عدلیہ کا بھی کردار ہے، آئین میں مارشل لا کی کوئی اجازت نہیں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے تحریری معروضات عدالت میں جمع کروا دی گئیں۔تحریری معروضات میں بتایا گیا کہ سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل نہیں ہونا چاہیے۔ آرمی ایکٹ کی شقوں کو مختلف عدالتی فیصلوں میں درست قرار دیا جاچکا ہے۔ آرمی ایکٹ کی شقوں کو غیر آئینی قرار نہیں دیا جاسکتا۔جمعرات کو جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائل کیس کی سماعت کی، جس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے تحریری معروضات عدالت میں جمع کرا دی گئیں۔ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت پیر تک ملتوی ،حامد خان پیر کو دلائل جاری رکھیں گے۔