گوجرانوالہ کے تھانہ واہنڈو کی حدود میں 9 سالہ بچے کے اندھے قتل کا معمہ پولیس نے محض آٹھ گھنٹوں میں حل کرتے ہوئے مقتول کے دادا کو گرفتار کر لیا، جس نے ابتدائی تفتیش میں مبینہ طور پر جرم کا اعتراف بھی کر لیا۔
پولیس کے مطابق واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سی پی او ڈاکٹر سردار غیاث گل خان نے فوری طور پر خصوصی تفتیشی ٹیمیں تشکیل دیں، جنہوں نے جدید تفتیشی طریقوں، فرانزک شواہد اور مختلف زاویوں سے تحقیقات کے بعد ملزم تک رسائی حاصل کی۔ابتدائی تفتیش کے مطابق گرفتار ملزم عبدالرحمان، جو مقتول بچے کا دادا ہے، نے اپنے ذاتی مخالفین کو جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کی غرض سے قتل کی منصوبہ بندی کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے واردات کو گمراہ کن رخ دینے کے لیے بچے کے پیٹ پر بھی وار کیے تاکہ قتل کو کسی اور نوعیت کا واقعہ ظاہر کیا جا سکے۔حکام کے مطابق ایس ایچ اوز پر مشتمل خصوصی ٹیموں نے شبانہ روز محنت کرتے ہوئے مختلف شواہد، بیانات اور دیگر تفتیشی نکات کا باریک بینی سے جائزہ لیا، جس کے نتیجے میں چند ہی گھنٹوں میں اندھے قتل کا معمہ حل کر لیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ایس پی صدر کی نگرانی میں تفتیش کا عمل جاری ہے اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ مزید شواہد بھی اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ مقدمے کو مضبوط بنایا جا سکے۔سی پی او ڈاکٹر سردار غیاث گل خان نے کہا کہ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے سنگین مقدمے کو قلیل وقت میں ٹریس کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط تفتیش، ٹھوس شواہد اور مؤثر قانونی پیروی کے ذریعے ملزم کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلائی جائے گی۔