لیاقت بلوچ
8 جولائی 2016ء تحریکِ آزادی کشمیر کی تاریخ میں ایک روشن سنگ ِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ 22 سالہ مجاہد بْرہان مظفر وانی اور اس کے ساتھیوں کی شہادت نے اس تحریک کوایک نئے اور فیصلہ کن دور میں داخل کردیا۔ ویسے بھی تحریکِِ آزادی کشمیر کے حوالے سے جولائی کا مہینہ کئی اعتبار سے گذشتہ 95 برس سے خصوصی اہمیت کا حامل رہا ہے: 13 جولائی 1931ء کو ڈوگرہ راج کے خلاف جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی تاریخی جدوجہد کا آغاز ہوا، جسے برعظیم کے مسلمانوں کی مکمل تائید حاصل تھی۔ 19 جولائی 1947ء کو جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے 1947ء کے کشمیر کے انتخابات میں 16 نشستیں حاصل کر کے جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی ترجمانی کا مقام حاصل کیا اور یوں الحاقِ پاکستان کی قرارداد کے ذریعے جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی سیاسی منزل کا تعین ہوگیا۔
بْرہان مظفر وانی شہید کو جتنا بھی خراجِ تحسین پیش کیا جائے کم ہے لیکن اصل ضرورت حالات کے دھارے کو سمجھنے اور اس عظیم تحریک کی حفاظت، اس کی ترقی اور اسے حقیقی کامیابی کی منزل تک پہنچانے کے لیے جن اقدامات کی ضرورت ہے ان پر توجہ مرکوز کرنے کی ہے۔ شہداء کی قربانیوں کو صحیح خراج تحسین اس تحریک کوآگے بڑھانے اور کامیابی سے ہم کنار کرنے کی سعی و جہد میں ہے اور اس کی فکر پاکستانی قوم، اس کی سیاسی اور عسکری قیادت اور پوری اْمت مسلمہ اور حق پرست انسانوں اور آزادی کے پرستاروں کو کرنی چاہیے۔
شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہونے کے بعد مجاہد بْرہان مظفر وانی کی جائے شہادت خاص و عام کے لیے زیارت کا مقام بن گئی۔ الجزیرہ ٹیلی وڑن کا نمائندہ شہادت کے پانچ دن کے بعد جائے شہادت یعنی کاوپور کے علاقے میں واقع چھوٹے سے گاؤں ’بمدور‘ اور بْرہان کی جائے پیدائش اور مقامِ تدفین ترال پہنچا۔ اس نے اپنے اور کشمیر کے عوام کے جو تاثرات الجزیرہ کے 15 جولائی 2016ء کے پروگرام میں نشر کیے ہیں وہ زمینی حقائق کو سمجھنے میں مددگار ہیں۔اس رپورٹ میں بْرہان وانی کے خنجربکف مجاہد بننے، دوسروں کو بیدار کرنے اور پھر شہادت کے بعد آخری سفر کا ذکر تفصیل کیساتھ کیا گیا ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلح مزاحمت 1989-90 ء میں شروع ہوئی، جب پْرامن سیاسی حل کی 40 سالہ کوششیں ناکام ہوگئیں۔ 2007-08ء تک مسلح مزاحمت ذیلی سطح پر آکر عوامی سطح پر چھا گئی تھی۔ قبل ازیں کشمیری عوام کی طرف سے انتخابات میں حصہ لینے اور بظاہر مسلح مزاحمت سے دور رہنے کی یہ تعبیر کی گئی کہ لوگوں نے بھارت کی تائید کردی ہے اور آزادی یا تحریک ِ آزادی کو marginalize کردیا گیا ہے۔اِسی طرح قابض بھارت کی طرف سے معاشی بہتری کے بعد نمائشی اقدامات اور وادی میں غیرکشمیری لوگوں کی آبادکاری کے ذریعے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔
جولائی 1931ء سے جولائی 2016ء تک تحریکِ آزادی مختلف اَدوار میں بڑے بڑے نشیب و فراز سے گزرتی رہی۔ آزادی کے جذبے سے سرشار کشمیری عوام نے گزشتہ کئی دہائیوں میں بھارتی تسلط کے خلاف بے پناہ قربانیاں دیں۔ 1989-92ء ، 2008-10ء اور 2013ء میں قابض بھارتی فوج کی طرف سے کشمیری عوام کے خلاف خونی کریک ڈاؤن کے دوران جب بڑی تعداد میں لوگ غیرمسلح باہر آئے اور قابض بھارتی فوج کی ننگی طاقت کا نہتے ہاتھوں مقابلہ کرتے ہوئے جانوں کے نذرانے پیش کئے تو یہ واضح ہوگیا کہ کشمیری عوام کسی صورت بھی اپنی آزادی اور حقِ خودارادیت کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ تاہم 8 جولائی 2016ء کو مجاہد بْرہان مظفر وانی اور اس کے ساتھیوں کی شہادت، بھارتی حکومت کی اندھی قوت کے ذریعے تحریکِ آزادی کو کچلنے کی کوشش اور اس پر کشمیری مسلمانوں کے شدید ردعمل نے عوامی تحریک اور جذبات کو قوت کے ذریعے ختم کرنے کی پالیسی کے دیوالیہ پن کو دو اور دو چار کی طرح واضح کر دیا۔
ظلم، تشدّد، جانی و مالی نقصانات پر مبنی کارروائیوں کے ذریعے کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبانے اور تحریکِ آزادی کشمیر کو ختم کرنے میں ناکامی کے بعد موجودہ فاشسٹ بھارتی حکومت نے ایک نیا حربہ استعمال کیا۔ 5 اگست 2019 کو بھارتی آئین سے آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد مودی حکومت نے کشمیری مسلمانوں کی سیاسی شناخت کو منظم طریقے سے ختم کرنے کی سازش کی، انہیں نمائندگی، خودمختاری، اور جمہوری حقوق سے محروم کردیا گیا۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے حامل مذکورہ آرٹیکلز کی منسوخی کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کو دو وفاقی اکائیوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کرکے اِسے بھارتی آئین کے تحت قائم دیگر ریاستوں کا سٹیٹس دیا گیا اور کشمیر کا اپنا جھنڈا اور الگ نیم خودمختار حیثیت کا خاتمہ کرکے کشمیری عوام کے سیاسی حقوق معطل کرکے کشمیری مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کی ایک بھونڈی سازش کی گئی، اْن سے ووٹ کا حق چھینا گیا، آبادی کا تناسب تبدیل کیا گیا اور اختلاف رائے کو جبراً خاموش کردیا گیا۔ ویسے بھی بھارت کے کالے قوانین جیسے آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) اور پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کے ذریعے سکیورٹی فورسز کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ کشمیریوں کو بلا جواز قتل کریں، قید کریں اور ان کی آواز کو دبائیں جس سے مقبوضہ وادی ایک عسکری قید خانہ بن کر رہ گیا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ قرار دیئے جانے کے باوجود بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنی جابرانہ پالیسیوں کے ذریعے کشمیری عوام کی آواز کو دبانے کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے اور اسرائیل کی طرح انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیرکر کشمیری عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ بھارت کی اِسی جابرانہ پالیسی نے کشمیری عوام کے اندر جذبہ حریت کی آگ کو تر و تازہ رکھا ہوا ہے اور آج بھی مقبوضہ کشمیر کے عوام کے اندر اِس ناجائز بھارتی تسلّط اور قبضہ کے خلاف بھرپور مقامی عوامی مزاحمت کا سلسلہ جاری ہے۔ ہندو مہاراجاؤں سے لیکر موجودہ بھارت کے اِس غیرقانونی قبضے تک کشمیری شہداء کی فہرست طویل سے طویل تر ہوتی جا رہی ہے۔ جولائی 1931ء میں عبدالقادر سے لیکر مقبول بٹ، برہان مظفر وانی اور پھر آج تک کشمیری عوام نے آزادی کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے سے کبھی نہیں گریز نہیں کیا۔
تاریخی حقائق سے ثابت ہے کہ کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو ریاستی طاقت کے بل بوتے پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ قابض بھارتی افواج کی طرف سے کشمیری عوام پر گزشتہ 78 سالوں سے بدترین ظلم روا رکھنے کے باوجود ریاستی قوت سے تحریکِ آزادی کو کچلنے میں بھارتی افواج مکمل طور پر ناکام ہیں۔ 1989ء کے بعد سے شروع ہونے والی مسلح تحریک مزاحمت کو کئی طرح کے نشیب و فراز کا سامنا رہا لیکن ایک لاکھ سے زیادہ جانوں کی قربانیوں اور اِس سے کہیں زیادہ زخمی یا معذور کردیے جانے، ہزاروں کی تعداد میں اغوا، گرفتاریاں، گم شدگیاں، جمہوری آزادیوں پر قدغنیں، عصمت دری کو جنگی حربے کے طور پر استعمال کرنے کے علی الرغم کشمیری عوام کے دِلوں سے تحریکِ آزادی کشمیر کے جذبے کو ختم نہیں کیا جاسکا۔ صرف وادیِ کشمیر میں 6 لاکھ سے زائد قابض بھارتی فوج اور معاون آپریشنل فورسز کی موجودگی اور اِن کی ظالمانہ کارروائیوں کو ہرقسم کی بازپْرس اور جواب دہی سے استثنٰی کے باوجود گزشتہ 36 سالوں کے دوران مسلح تحریکِ مزاحمت کو ختم نہیں کیا جاسکا۔
پاکستانی عوام نے ہمیشہ ہر مرحلے پر اپنے کشمیری بہن، بھائیوں کی حمایت کا حق ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عظیم کشمیری رہنما سید علی گیلانی کا نعرہ’’ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے‘‘ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے دِلوں کی آواز بن گیا۔ کشمیر کا مسئلہ نہ زمین کا تنازعہ ہے، نہ سرحد کی صف بندی کا معاملہ، اور نہ ہی محض پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی تنازعہ، بلکہ مسئلہ کشمیر کے تینوں فریق پاکستان، بھارت اور جموں و کشمیر کے عوام ہیں جنہوں نے مل کر اِس کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کی اْمنگوں کے مطابق کرنا ہے۔ کشمیر بھارت کے لیے غاصبانہ ہوسِ ملک گیری کا معاملہ تو پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے کیوں کہ اس کا تعلق ان بنیادوں سے ہے جن پر پاکستان قائم ہوا اور تقسیم ہند عمل میں آئی۔ اس کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کا تعلق ریاست کے عظیم اکثریتی مسلمانوں کے مستقبل اور پاکستان کے اسٹریٹیجک مفادات، نیز معاشی اور تہذیبی وجود سے بھی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح? نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا، اپنی شہہ رگ کو دشمن بھارت کے چْنگل سے آزاد کرانا پاکستانی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کا اصولی موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوامِ متحدہ کی 13 اکتوبر 1948ء ، 5 جنوری 1949ء اور سلامتی کونسل کی دیگر قرارداوں کی روشنی میں کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق ہونا عالمی برادری پر فرض اور قرض ہے۔