مقبوضہ کشمیر کی آزادی تک جنگ جاری رہے گا

پروفیسر حکیم سید عمران فیاض
بھارتی عاصبوں کی بڑھتی ھوئی درندگی و دراندازی نے وادی کشمیر جنت نظیر کے عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ھے۔ بھارتی فوج کے اھلکاران و افسران جو کہ ان کے اوپر روزبروز اپنے ظلم و ستم کو بڑھاتے جارھے ھیں۔ گزشتہ چند سالوں  سے بھارتی افواج کی طرف سے بدترین مظالم کے باوجود وہ کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبانے میں مکمل طور پر ناکام ھوچکی ھے۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام کو ھر طرح کی نسل کشی کا سامنا کرنا پڑرھا ھے۔ بھارتی عاصبوں کا مکرہ چہرہ اس وقت پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ھو چکا ھے۔ اب وقت آگیا ھے کہ بھارت کو اپنی ھٹ دھرمی و فسطا?یت کو ایک طرف رکھ کر کشمیریوں  کے حق خوداریت کو تسلیم کرنا ھو گا۔ دنیا بھر کے مسلمان کشمیریوں پر ھونے والے دلدوز و اندھوناک مظالم سے پوری طرح آگاہ ھیں۔ مملکت خداداد پاکستان  میں 5 فروری کو مقبوضہ کشمیر کے ظلم و جبر و بربریت کا شکار مظلوم عوام سے اظہار یکجہتی کا اظہار کرتے ھو ئے اس دن کو ھر سال منایا جاتا ھے۔ اس دن بھارتی قوم  کے مظالم کو دنیا کے سامنے واشگاف الفاظ میں بیان کیا جاتا ھے۔ پورے ملک میں سرکاری و غیر سرکاری سطح پر جلسے۔ جلوس۔ ریلیاں۔ سیمینارز ۔ ٹاک شوز کا انعقاد کیا جاتا ھے۔ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پر بھارتی درندگی کی اصل تصویر عوام کو دکھائی جاتی ھے۔ اور دنیا کو یہ پیغام دیا جاتا ھے کہ بھارت ایک ظالم۔ قاتل۔ اور انسانیت کا دشمن ملک ھے۔ بھارت نام نہاد جمہوریت کے لبادے میں کشمیریوں کی نسل کشی اور دنیا کو دھوکا دے رھا ھے۔کشمیریوں کے جمہوری حقوق کو پامال کردیا ھے۔

کشمیر جنت نظیر  برصغیر پاک و ہند کا شمال مغربی علاقہ ہے۔ تاریخی طور پر کشمیر وہ وادی ہے جو ہمالیہ اور پیر پنجال کے پہاڑی سلسلوں کے درمیان میں واقع ہے۔ آج کل کشمیر کافی بڑے علاقے کو سمجھا جاتا ہے جس میں وادی کشمیر ، جموں اور لداخ بھی شامل ہے۔ پاکستانی کشمیر کے علاقے پونچھ ، جموں کے علاوہ گلگت اور بلتستان کے علاقے شامل ہیں ۔ 1846 سے پہلے یہ آزاد ریاستیں تھیں۔ پاکستان بنتے وقت یہ علاقے کشمیر میں شامل تھے۔ وادی کشمیر پہاڑوں کے دامن میں کئی دریاؤں سے زرخیز ہونے والی سرزمین ہے۔ یہ اپنے قدرتی حسن کے باعث زمین پر جنت تصور کی جاتی ہے۔یہ امر قابل ذکر ھے کہ اس وقت خطہ تنازعات کے باعث تین ممالک میں تقسیم ہے جس میں پاکستان  شمال مغربی علاقے (شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر) ، بھارت وسطی اور مغربی علاقے (جموں و کشمیر اور لداخ) اور چین شمال مشرقی علاقوں (اسکائی چن اور بالائے قراقرم علاقہ) کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے۔ بھارت سیاچن گلیشیئر سمیت تمام بلند پہاڑوں پر جبکہ پاکستان نسبتا کم اونچے پہاڑوں پر قابض ہیں۔ بھارتی عاصبوں کے زیر قبضہ مقبوضہ علاقہ جموں و کشمیر کے دارالحکومت سری نگر کی خوبصورت 
ڈل جھیل کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان میں تنازعے کی اہم ترین وجہ ہے اور اس تنازعے کا واحد حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تناظر میں کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنا ہے . پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں جو کشمیر کے آزادی اور خود مختاری کو بامسئلہ کشمیر دنیا کے خطرناک ترین علاقائی تنازعات میں سے ایک شمار کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کشمیر پر تین جنگیں لڑچکے ہیں جن میں 1947ء￿  کی جنگ ، 1965ء￿  کی جنگ اور 1999ء￿  کی کارگل جنگ شامل ہیں 1971 کی جنگ بنگال کی وجہ سے ہوئی تھی۔ سولہ مارچ 1846 انگریز نے 75 لاکھ کے عوض کشمیر گلاب سنگھ ڈوگرہ کو فروخت کیا. امرتسر معاہدہ . پھر اس کا بیٹا زنبیر سنگھ جانشین بنا . پھر پرتاب سنگھ جانشین بنا .افیون کا نشئہ کرتا تھا۔ کرکٹ کھیلنے کا شوقین تھا . بے اولاد تھا۔ پھر امر سنگھ کا بیٹا ہری سنگھ سازش سے جانشین بنا .  ہری سنگھ 1925 میں گدی نشین بنا جسے قادیانی حمائت حاصل تھی . مسلمانوں پر ظلم و استبداد شروع ہوا .1929 میں شیخ عبد اللہ نے ریڈنگ روم تنظیم اور اے آر ساغر نے ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن بنائی .
14 اگست 1931 پہلی بار کشمیر ڈے منایا گیا۔ اکتوبر 1931 میں علامہ اقبال کی سرپرستی میں مسلمان وفد مہاراجا ہری سنگھ اور اس کے وزیر اعظم ہری کرشن کول سے مذاکرات کے لیے ملے. مذاکرات ناکام ہوئے. سیالکوٹ سے کشمیر چلو کشمیر چلو تحریک چلی.  یوں تحریک آزادی باقاعدہ 1931 میں شروع ہوئی. مسلمانوں کا دوسرا مجاہد دستہ جہلم سے میر پور کی طرف روانہ ہوا . تیسرا دستہ راولپنڈی کے تیس نوجوانوں پر مشتمل تھا جو قرآن پر قسم اٹھا کر نکلے کہ کوہالہ پل بند کر کے رہیں گے . پھر اس جنگ کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے نومبر 1931 میں  سر بی جے گلینسی کی صدارت میں کمیشن بنا . 1933 میں سری نگر پتھر مسجد میں جموں کشمیر مسلم کانفرنس کی بنیاد رکھی گئی۔ شیخ عبد اللہ اس کے صدر اور چوہدری غلام عباس اس کے جنرل سیکرٹری بنے . اس وقت خطہ کشمیر کے سب سے زیادہ حصے یعنی 101،387 مربع کلومیٹر پر جبکہ پاکستان 85،846 اور چین 37،555 مربع کلومیٹر پر قابض ہیں۔یادرھے کہ آزاد کشمیر کا 13،350 مربع کلومیٹر (5134 مربع میل) پر پھیلا ہوا ہے جبکہ شمالی علاقہ جات کا رقبہ 72،496 مربع کلومیٹر (27،991 مربع میل ) ہے جو گلگت اور بلتستان پر مشتمل ہے۔ تقسیم ہند سے قبل بلتستان صوبہ لداخ کا حصہ تھا اور اس کا دار الحکومت اسکردو لداخ کا سرمائی دار الحکومت تھا۔

بھارت نے عالمی  معاھدوں کی خلاف ورزیاں کرکے طاقت کے بل بوتے پر کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ھے۔ جبکہ کشمیری بھارتی تسلط کو تسلیم کرنے کے لی?ے تیار نہیں اور ان مشکل اور سنگین تر حالات میں بھی استقامت کا مظاھرہ کر رھے ھیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ھے کہ وزیراعظم پاکستان  کی جنرل اسمبلی میں تقریر نے کشمیریوں کی 70 سال سے جاری تحریک آزادی میں ایک ن?ی روح پھونک دی ھے۔ اور دوسری طرف یورپی پارلیمینٹ میں بھارتی شہریت قانون و کشمیریوں پر مظالم کیخلاف گورنر پنجاب چوھدری محمد سرور کی طرف سے 751 اراکین کو ایک قرارداد کی شکل میں خط لکھا۔ جس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دراندازی۔ بربریت۔ انسانیت سوز مظالم۔ اور فسطا?یت سے بھرپور کاروائیوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ھے کہ بھارتی عاصبوں کی کنٹرول لا?ن پر بھڑتی ھو?ی دراندازی کا جس طریقے سے ھماری افواج نے منہ توڑ جواب دیا اور جس بلند حوصلہ اور اعلی ظرفی کا مظاھرہ کیا وہ واقعی قابل تحسین 
امر ھے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام پر بھارتی مظالم و بربریت کی ایسی داستانیں تاریخ کے اوراق میں رقم ھوں گی کہ جن کو جب ھماری آنے والی نسلیں پڑھیں گی تو یقیناً اْن کا دل خون کے آنسو روئے گا۔ اب وقت آگیا ھے کہ بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جا?ے۔ انشا ?اللہ اب اگر جنگ ھو گی تو وہ ایٹمی جنگ ھو گی۔ اور ھماری جوھری طاقت بھارت کو صفحہ ھستی سے مٹا دے گی۔