اسمبلی میں احتجاج پارلیمانی روایت ، ماضی میں کئی بار وزیر خزانہ کی تقاریر کے دوران خلل ڈالا گیا
اسلام آباد(آن لائن)سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے سپیکر کو یہ ریفرنسز الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھیجنے کے لیے غلط مشورہ دیا گیا ہے، جن میں اپوزیشن کے 26 ارکان کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کی مذمت کی جاتی ہے۔ اپنے بیان میں رضا ربانی نے کہا کہ اسمبلی میں احتجاج ایک پارلیمانی روایت ہے اور ماضی میں کئی بار صدرِ مملکت اور وزیر خزانہ کی تقاریر کے دوران اپوزیشن کی جانب سے خلل ڈالا گیا ہے۔ سپیکر کو قواعد و ضوابط اور پارلیمانی روایات کے تحت معطلی یا دیگر تادیبی اقدامات کا اختیار ضرور حاصل ہے۔لیکن اپنے ہی ارکان کی نااہلی کی درخواست دینا ان کے منصب کے شایانِ شان نہیں۔ اسی حوالے سے سپیکر کا چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کرنا بھی نامناسب عمل تھا۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر کا منصب ایک غیرجانبدار اور خودمختار منصب ہوتا ہے اور چاہے کوئی رکن حکومتی بینچوں سے ہو یا اپوزیشن سے، وہ سب سپیکر کے سامنے برابر ہوتے ہیں۔یہ بھی نامناسب تھا کہ سپیکر نے وزیراعلیٰ کی تقریر کے دوران اسمبلی میں ویڈیو کلپس چلنے کی اجازت دی۔سپیکر کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ان ریفرنسز کو واپس لے لیں تاکہ پارلیمنٹ میں ناپسندیدہ اور غلط نظیر قائم نہ ہو۔