سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے یمن کے جنوبی صوبے الضالع میں محدود فضائی کارروائیاں کیں۔
ان حملوں کا مقصد سدرن ٹرانزیشنل کونسل (STC) کے زیر قیادت علیحدگی پسند فورسز کی فوجی سرگرمیوں کو روکنا تھا، جو علاقے میں بڑھ رہی تھیں۔
عیدروس الزبیدی کا کردار:
STC کے سربراہ عیدروس الزبیدی کو منگل کی شب عدن سے ریاض روانہ ہونا تھا، تاکہ یمنی حکومت اور علیحدگی پسند گروپ کے درمیان مذاکرات ہو سکیں۔سعودی اتحاد کے مطابق الزبیدی نے الضالع میں بھاری اور ہلکے ہتھیاروں کے ساتھ ایک بڑی فوجی قوت متحرک کر دی، جس سے ممکنہ تصادم کے خدشات پیدا ہوئے۔پیشگی تصادم کو روکنے کے لیے سعودی اتحاد نے صبح چار بجے فضائی حملے کیے، اور اسی دوران الزبیدی نے ریاض جانے والی پرواز نہیں لی بلکہ نامعلوم مقام پر فرار ہو گئے۔
یمنی حکومت کی کارروائی:
یمن کے ایوانِ صدر نے الزبیدی پر غداری کے الزامات عائد کیے۔انہیں نائب صدر صدارتی لیڈرشپ کونسل کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔اعلامیے کے مطابق الزبیدی کو اپنے اقدامات پر اٹارنی جنرل کے سامنے جوابدہ ہونا ہوگا۔
نتائج اور اثرات:
الضالع میں علیحدگی پسند فورسز اور یمنی حکومت کے درمیان تنازع میں شدت پیدا ہو سکتی ہے۔سعودی اتحاد کی فضائی کارروائیوں سے خطے میں سیکیورٹی خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
الزبیدی کی غیر موجودگی اور برطرفی جنوبی علیحدگی پسند تحریک میں داخلی تقسیم یا انتشار کا سبب بن سکتی ہے۔