امریکا نے یمن میں فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں 153 شہریوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا

امریکا نے یمن میں فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں 153 شہریوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا

واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع کی حالیہ دستاویزات کے مطابق گزشتہ سال یمن میں امریکی فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں 153 شہری ہلاک اور 243 زخمی ہوئے۔
پینٹاگون کی جاری کردہ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ یمن میں ہونے والی متعدد فوجی کارروائیوں کے دوران شہری آبادی بھی متاثر ہوئی ہے، جن میں سے زیادہ تر ہلاکتیں اپریل 2025 میں انجام دی گئی تین کارروائیوں میں ہوئیں۔رپورٹ کے مطابق 6 اپریل 2025 کو یمن کے دارالحکومت صنعاء میں انجام دیے گئے ایک امریکی فضائی حملے میں 5 شہری جاں بحق ہوئے۔اسی طرح، 17 اپریل کو راس عیسیٰ بندرگاہ پر ہونے والی امریکی کارروائی کے نتیجے میں 80 شہری ہلاک ہوئے، جو کہ ان کارروائیوں میں سب سے زیادہ جانی نقصان کا واقعہ ہے۔
مزید برآں، 28 اپریل کو صعدہ کے قریب ایک اور امریکی حملے میں 47 شہری ہلاکتیں ہوئیں۔پینٹاگون کی دستاویزات کے مطابق، ان تین اہم کارروائیوں کے علاوہ بھی یمن میں امریکی فوجی آپریشنز کی 15 دیگر کارروائیاں زیر غور ہیں، جن کے بارے میں حتمی تفصیلات یا فیصلے سامنے نہیں آئے ہیں۔
یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یمن میں امریکی فوجی کارروائیوں اور شہری ہلاکتوں پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔یمن میں امریکی فوجی کارروائیوں کا بنیادی مقصد حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر اور دیگر اہم سمندری راستوں میں تجارتی جہازوں پر حملوں کو روکنا ہے، جس کا امریکا کا موقف ہے کہ ان کارروائیوں سے بحری آمد و رفت کو محفوظ بنایا جا رہا ہے۔
تاہم، شہری ہلاکتوں کے اعداد و شمار نے امریکی فوجی طریقہ کار اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق سوالات کو بڑھا دیا ہے۔