آزمائش

 عدینہ سہیل
اے غمزدہ روح! تم کیوں پریشان ہوتی ہو؟ کیا تمہیں اپنے رب پر کامل اعتماد نہیں؟ کیا تم اس رب کی شان سے واقف نہیں ہو جو ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرنے والا ہے؟ کیا وہ کبھی تمہاری آزمائش ختم نہیں کرے گا؟ جب جانتے ہو کہ یہ آزمائش ہے تو پھر نااْمید کیوں ہوتی ہو؟
وہ رب اپنے اْن بندوں کو آزماتا ہے جن سے وہ محبت کرتا ہے۔ وہ ہر چیز سے باخبر ہے۔
تمہارا راتوں کو جاگنا، تہجدوں میں آنسو بہانا، دعا مانگتے وقت خالی آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھنا،
دن کی بے سکونی اور رات کی بے چینی کچھ بھی اس سے پوشیدہ نہیں۔ قبولیت کی ہر گھڑی میں مانگی جانے والی وہ ایک دعا جس کا پورا ہونا تمہیں ناممکن لگتا ہے، یاد رکھنا! وہ اس ربِّ عزت کے لیے صرف ایک ‘‘کن’’ کی محتاج ہے۔ ادھر ‘‘کن’’ فرمایا، ادھر تمہاری زندگی بدل جائے گی 
یہ قبولیت میں تاخیر بھی تمہارے لیے ہی بہتر ہے،
اور جب تمہیں اس بہتری کا علم ہوگا تو یقیناً تم حیران رہ جاؤ گے
اور اس کی محبت میں اور زیادہ گرویدہ ہو جاؤ گے۔
بے شک اس کے ہر کام میں حکمت پوشیدہ ہے  اور تم اس حکمت سے واقف نہیں ہو۔ تم اس کے علم میں سے اتنا ہی جانتے ہو جتنا وہ چاہتا ہے۔ اسی لیے بس اپنا یقین پختہ رکھو۔ جن چیزوں کو تم ناممکن کہتے ہو، یاد رکھو اللہ کے لیے لفظ ‘‘ناممکن’’ بالکل بے معنی ہے۔
تمہاری دعاؤں کی قبولیت کے لیے بھی ایک خاص وقت مقرر ہے، اور پھر ایک وقت آئے گا
جب وہ تمہیں اتنا نوازے گا
کہ تم خوشی سے بھر جاؤ گے۔
بس یقین کے ساتھ معجزے کا انتظار کرو۔ بے شک وہ اللہ ہے
جو اپنے محبوب بندوں کو ہمیشہ غمگین نہیں رہنے دیتا۔