کمیٹی کی نجی اسکولوں کی فیسوں سے متعلق مکمل تفصیلات آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت

اسلام آباد(آئی این پی )  قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم و تربیت کا اجلاس ڈاکٹر شازیہ صوبیہ سومرو کی زیر صدارت  منعقد ہوا،  اجلاس میں پرائیویٹ اسکولوں کی فیسوں، یونیورسٹی بل اور این جی اوز پر بحث ہوئی۔  چیئرمین کمیٹی ڈاکٹر اعظم الدین زاہد لکھوی کے بعد بھی کمیٹی کا تسلسل برقرار رکھنے سے متعلق امور پر بات بھی کی گئی۔ چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ چیئرمین کے بعد بھی اس کمیٹی کو جاری رکھا گیا تاکہ تعلیمی شعبے سے متعلق اہم معاملات کو موثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔اجلاس میں کمیٹی کی سابقہ سفارشات، ان پر عمل درآمد کی صورتحال اور جامع رپورٹ کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اس دوران اردو یونیورسٹی کے ملازمین کی تنخواہوں کے مسائل بھی زیر بحث آئے، جس پر چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ اردو یونیورسٹی کا معاملہ آئندہ اجلاس میں دوبارہ دیکھا جائے گا۔اجلاس میں دی ویسٹ منسٹر یونیورسٹی آف ایمرجنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی بل 2024 پر بھی بحث کی گئی، جو رکن قومی اسمبلی زہرہ ودود فاطمی کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔ چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ یہ بل 2024 میں پیش ہوا لیکن ابھی تک اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہو رہا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن اس بل کے بارے میں وضاحت دے۔اس موقع پر ایچ ای سی حکام نے آگاہ کیا کہ دی ویسٹ منسٹر یونیورسٹی آف ایمرجنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے نام پر زمین موجود نہیں تھی۔ بل پیش کرنے والوں کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ کون سی چیزیں مِسنگ ہیں۔پرائیویٹ ایجوکیشن انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا)نے کمیٹی کو بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ فیس 5 فیصد تک بڑھائی جا سکتی ہے جب کہ دورانِ ٹرم فیس میں اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔ پیرا حکام نے پنجاب اور سندھ کے پرائیویٹ اسکولز کی فیس سے متعلق قواعد و ضوابط اور عدالتی احکامات کا بھی ذکر کیا