قبضہ گروپ ندی نالوں کے کنارے کچی آبادی بنا لیتے ہیں، عوامی سہولیات کے پلاٹ پر مکانات بن جاتے ہیں، حکومت نے روکنے کیلئے کیا اقدامات اٹھائے :جسٹس حسن اظہر
سکولوں میں دینی تعلیم لازم،آئینی بینچ نے درخواست پر جواب مانگ لیا‘سابق ڈپٹی سپیکر رولنگ کیس میں چودھری پرویز الٰہی کو نوٹس جاری کر دیا
اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے کچی آبادی کیس میں وفاقی حکومت سے کچی آبادی سے متعلق پالیسی رپورٹ 2 ہفتوں میں طلب کرلی۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کچی آبادی کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار رو صوبوں اور لوکل گورنمنٹ کا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ صوبائی اختیار پر وفاقی حکومت کیا قانون سازی کر سکتی ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا پہلے تو یہ بتایا جائے کچی آبادی کیا ہوتی ہے، بلوچستان میں تو سارے گھر کچے ہیں۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا قبضہ گروپ ندی نالوں کے کنارے کچی آبادی بنا لیتے ہیں، عوامی سہولیات کے پلاٹ پر کچی آبادی مکانات بن جاتے ہیں، حکومت نے کچی آبادی کو روکنے کیلئے کیا اقدامات اٹھائے ہیں۔وکیل سی ڈی اے نے کہا کہ سب سے پہلے تو کچی آبادی کی تعریف طے کی جائے، سی ڈی اے نے دس کچی آبادیوں کو نوٹی فائی کر رکھا ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ان کچی آبادی کے علاوہ کوئی قبضہ ہے تو کارروائی کرے، غیر قانونی قبضہ چھڑانے کے قوانین موجود ہیں۔وکیل سی ڈی اے نے کہا کہ عدالت نے قبضہ چھڑانے کیخلاف حکم امتناع دے رکھا ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ حکم امتناع ہے تو عدالت سے اس کو ختم کرائیں، تجاوزات کیسے بن جاتی ہے، تجاوزات کی تعمیر میں ادارے کے لوگ بھی ملوث ہوتے ہیں، سب سے پہلے چھپر ہوٹل بنتا ہے، پھر وہاں آہستہ آہستہ آبادی بن جاتی ہے۔بعدازاں عدالت نے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔ آئینی بینچ نے سکولوں میں دینی تعلیم کو لازمی قرار دینے سے متعلق درخواست پر نوٹسز جاری کردئیے اور جواب مانگ لیاہے عدالت نے کہاہے اگر کوئی غلط ترجمہ کیاگیاہے تواس بارے تفصیلات عدالت میں پیش کی جائیں۔۔جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے ہیں سندھ اور بلوچستان میں بھی قران کی تعلیم پر قانون بن چکا ہے اس سال شاید قران پاک تعلیم لازمی پڑھانے کے قانون پر عمل ہو جائے ‘آئینی بینچ نے سابق ڈپٹی سپیکر رولنگ کیس میں پرویز الٰہی کو نوٹس جاری کر دیا۔آئینی بینچ نے پرویز الہٰی کو نوٹس حمزہ شہباز نظر ثانی کیس میں جاری کیا۔دوران سماعت، جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ کیا یہ کیس غیر موثر تو نہیں ہوگیا؟ وکیل حمزہ شہباز حارث عظمت نے بتایا کہ کیس غیر موثر نہیں ہوا، آئینی بینچ نے گزشتہ سماعت پر فریقین کو نوٹسز بھی کیے تھے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پرویز الہٰی کی طرف سے کون پیش ہوگا، پرویز الہٰی بھی کیس میں فریق ہیں۔ بعدازاں عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔