عالمی مارکیٹ میں حالیہ دنوں کے دوران سونے اور چاندی کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔
ابتدائی مرحلے میں سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کی وصولی کے باعث قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم اب عالمی اور مقامی بازاروں میں سونے اور چاندی کی قیمتیں دوبارہ بڑھنے لگی ہیں۔سرمایہ کاروں کی دوبارہ خریداری کے رجحان کے باعث عالمی منڈی میں سونے اور چاندی کی طلب میں اضافہ دیکھنے کو ملا، جس کے اثرات پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹ میں بھی واضح ہیں۔ عالمی منڈی میں سونا 117 ڈالر اضافے کے بعد 4,967 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا، جبکہ مقامی مارکیٹ میں ایک تولہ سونا 11,700 روپے اضافے کے بعد 5,19,462 روپے پر بند ہوا۔ دس گرام سونا 10,030 روپے مہنگا ہو کر 4,45,354 روپے کا ہو گیا۔چاندی کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں، جہاں ایک تولہ چاندی 444 روپے اضافے کے بعد 8,269 روپے پر پہنچ گئی۔معاشی ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کی جانب سے سونے اور چاندی کی دوبارہ خریداری نے ان قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اضافہ برقرار رکھا ہے۔ راجہ کامران کا کہنا ہے کہ دنیا کے بڑے مرکزی بینک امریکی ڈالر پر انحصار کم کر رہے ہیں اور سونا محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر اپنایا جا رہا ہے، جس میں چین اور بھارت نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق عالمی تعطیلات اور وقتی صنعتی طلب میں کمی کے اثرات قیمتوں پر پڑے، لیکن ایران سے متعلق کشیدگی، مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام، یورپ اور امریکا کے اختلافات اور جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سونے کو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر مستحکم رکھا ہے۔کراچی صرافہ مارکیٹ کے رکن عبداللہ چاند کے مطابق دسمبر سے جنوری تک قیمتوں میں مسلسل اضافہ کے بعد مارکیٹ کو ایک صحت مند اصلاح کی ضرورت تھی، جو مختصر مدت میں مکمل ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر عالمی حالات برقرار رہے تو سونے کی قیمت آئندہ عرصے میں 6 ہزار ڈالر فی اونس تک جا سکتی ہے۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں چاندی کی قیمت میں اچانک کمی نے سرمایہ کاروں کو نقصان سے دوچار کیا۔ چند دنوں میں چاندی کی قیمت تقریباً 90 ڈالر سے کم ہو کر 65.67 ڈالر فی اونس پر آ گئی، جس سے 10 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ ہوئی۔ ماہرین کے مطابق امریکی ڈالر کی مضبوطی، عالمی طلب میں کمی اور سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع سمیٹنے کے رجحان نے چاندی کی قیمتیں نیچے دھکیل دیا، جبکہ مقامی بازار میں بھی خریدار محتاط نظر آ رہے ہیں۔