الیکشن میں جبر و دھاندلی کے 64 نئے ذرائع کا استعمال کیا گیا: رپورٹ

انتخابات سے پہلے اور پولنگ کے دن کے ذرائع اور  دھاندلی کا مقصد ’’مثبت‘‘ نتائج حاصل کرنا تھا
 عدلیہ کو محکوم، میڈیا، آزاد صحافیوں اور سوشل میڈیا کارکنوں کو دبانے کے اقدامات ہوئے:غیر سرکاری تنظیم پتن

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)8 فروری 2024 کے انتخابات میں ہیرا پھیری، جبر اور دھاندلی کے 64 نئے ذرائع کا استعمال کیا گیا، 2024 کے الیکشن کا ایک سال مکمل ہونے پر غیر سرکاری تنظیم پتن نے رپورٹ جاری کردی۔پتن ترقیاتی تنظیم نے ووٹروں کیخلاف جنگ کے عنوان سے رپورٹ کا پہلا حصہ جاری کردیا، رپورٹ میں عوامی مینڈیٹ کی چوری سے متعلق تجزیہ اور وضاحت کی گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا  انتخابات میں ہیرا پھیری، جبر اور دھاندلی کے 64 نئے ذرائع کا استعمال کیا گیا، انتخابات سے پہلے اور پولنگ کے دن کے ذرائع اور ووٹوں میں دھاندلی کا مقصد "مثبت" نتائج حاصل کرنا تھا، ارباب اختیار اور مملکت کے سارے وسائل چوری شدہ عوام کے مینڈیٹ کو بچانے میں مصروف ہیں، پیکا کا نفاذ اور 26ویں آئینی ترمیم وغیرہ اس کی مثال ہیں۔پتن رپورٹ میں کہا گیا  ملک میں آمریت مزید زور پکڑ رہی ہے، عام انتخابات میں بے مثال دھاندلی کے بعد آئین کے ڈھانچے اور روح کو مسخ کرنے کے اقدامات ہوئے، عدلیہ کو محکوم، میڈیا، آزاد صحافیوں اور سوشل میڈیا کارکنوں کو دبانے کے اقدامات ہوئے۔پتن نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی ہے  عام انتخابات 2024 میں دھاندلی کی تحقیقات اور ذمہ داریوں کے تعین کیلئے انکوائری کمیشن قائم کیا جائے۔