وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کا بہت ذکر کیا جاتا ہے، تاہم پاکستان کو رواں ہفتے 1.4 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی بھی کرنی ہے جبکہ اس کے علاوہ بھی کچھ مالی ادائیگیاں درپیش ہیں۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں حقائق کو سامنے رکھ کر بات کرنا ہوگی کیونکہ ایوان میں بعض ایسی باتیں بھی کی گئیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے بتایا کہ جب عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں تو حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کے لیے تیل پر مجموعی طور پر 129 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے اور اس حوالے سے صوبوں کے پاس پہلے سے الیکٹرانک ڈیٹا موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سبسڈی کا صرف اعلان نہیں کیا گیا بلکہ اس پر عملدرآمد بھی شروع ہو چکا ہے اور پہلی قسط عوام تک پہنچنا شروع ہو گئی ہے۔محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ بچت پروگرام میں تھرڈ پارٹی آڈٹ کیا جا رہا ہے جبکہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ابھی تک زرمبادلہ کے ذخائر پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت عالمی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کئی ممالک میں تیل کے بحران کے باعث قطاریں لگ چکی ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں پیٹرول کی قیمت میں 30 فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں 70 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
وزیر خزانہ نے امید ظاہر کی کہ خطے میں امن قائم ہو اور پاکستان کی جانب سے جاری امن مذاکرات کی کوششیں کامیاب ہوں۔انہوں نے کہا کہ حکومت تیل و گیس کے بڑھتے ہوئے بلوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے اور کورونا وبا کے تجربات سے سیکھتے ہوئے ممکنہ تیل بحران کے اثرات سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔محمد اورنگزیب نے مزید بتایا کہ 26 ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کیے جا چکے ہیں، جبکہ بعض ادارے پی ڈبلیو ڈی طرز کی نجکاری کے قابل نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ اداروں جیسے یوٹیلیٹی اسٹورز میں سبسڈی کے نظام میں بھی کرپشن کے شواہد ملے ہیں۔وزیر خزانہ کے مطابق وزیر اعظم نے آئندہ 8 سے 10 سال میں کلین انرجی کے فروغ کے لیے ٹاسک فورس قائم کر دی ہے اور حکومت مستقبل میں کلین اینڈ گرین انرجی کی طرف جانے کی پالیسی پر عمل کرے گی۔