گھوٹکی میں گندم کی فصل مارکیٹ میں پہنچ گئی، سرکاری خریداری مراکز غیر فعال، کاشتکار پریشان

گھوٹکی میں گندم کی فصل مارکیٹ میں پہنچ گئی، سرکاری خریداری مراکز غیر فعال، کاشتکار پریشان

سندھ کے ضلع گھوٹکی کی تحصیل اوباڑو اور اس کے گردونواح میں گندم کی کٹائی کا سلسلہ گزشتہ کئی روز سے جاری ہے اور نئی فصل بڑی مقدار میں مارکیٹ تک پہنچنا شروع ہو گئی ہے، تاہم سرکاری سطح پر خریداری کا عمل تاحال مکمل طور پر فعال نہ ہونے کے باعث کاشتکار شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

سندھ حکومت نے رواں سال گندم کی امدادی قیمت 3500 روپے فی من مقرر کی ہے اور یکم اپریل سے صوبہ بھر میں خریداری مراکز فعال کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن اوباڑو اور دیگر علاقوں میں بیشتر مراکز ابھی تک مکمل فعال نہیں ہو سکے۔مقامی کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ گندم کھیتوں سے نکل کر منڈیوں تک پہنچ رہی ہے، مگر سرکاری خریداری نہ ہونے کے باعث وہ مجبورا اپنی فصل اوپن مارکیٹ میں 2500 سے 2600 روپے فی من کے نرخوں پر فروخت کر رہے ہیں، جو سرکاری قیمت سے نمایاں طور پر کم ہے۔زرعی ماہرین اور کسان تنظیموں کے مطابق محدود تعداد اور تاخیر کے باعث خریداری مراکز سے دور دراز علاقوں کے کاشتکار سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

 اس سال سندھ میں خریداری مراکز صرف تقریباً 109 ہیں، جس کی وجہ سے کسانوں کو اپنی فصل لے جانے میں دشواری ہو رہی ہے۔کاشتکاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر خریداری مراکز فعال کیے جائیں، باردانہ کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور کسانوں کو مناسب معاوضہ دیا جائے، ورنہ وہ مالی نقصان کے خلاف احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف کاشتکاروں کی معاشی حالت مزید خراب ہوگی بلکہ آئندہ فصلوں کی پیداوار پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔