کچھ بھی ہوا،خون بہا ،ذمہ داری حکومتی اور انتظامیہ کے کندھوں پر ہو گی:سربراہ بی این پی

بلوچستان میں دفعہ 144نافذ بی اینی پی کا آج شٹر ڈائون ہڑتال کا اعلان ،اختر مینگل کے نظر بندی کے احکامات
صوبائی حکومت نے جلسوں، دھرنوں، لانگ مارچ یا اجتماع پر پابندی عائدکردی، پو لیس نے لانگ مارچ کے شرکا کے استقبال کے لیے کھڑے بی این پی کارکنوں پر تشدد کیا،کی بڑی تعداد کو گرفتار کر لیا گیاہے، سیکرٹری اطلاعات بی این پی آغا حسن بلوچ کادعویٰ

قومی شاہراہیں بند نہیں ہوں گی،صوبائی انتظامیہ نے اتوار کی صبح 6بجے سرداراختر مینگل کو ان کی گرفتاری کے ایم پی او آرڈر سے آگاہ کر دیا تھا، سربراہ بی این پی نے گرفتاری دینے سے انکار کر دیا،ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند
کوئٹہ (آئی این پی )بلوچستان حکومت نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کوئٹہ کی جانب مارچ کیا تو انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔ ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند نے بی این پی کے لانگ مارچ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اخترمینگل نے کوئٹہ کی جانب مارچ کیا تو انہیں گرفتاری کا سامنا کرنا پڑے گا، انتظامیہ نے صبح 6 بجے اختر مینگل کو ان کی گرفتاری کے ایم پی او آرڈر سے آگاہ کر دیا تھا، تاہم سربراہ بی این پی اخترمینگل نے گرفتاری دینے سے انکار کر دیا۔شاہد رند نے بی این پی کی جانب سے قومی شاہراہوں کی بندش کی کال کو شہریوں کی مشکلات میں اضافہ قرار دیا اور واضح کیا کہ تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایات ہیں کہ قومی شاہراہیں بند نہیں ہوں گی۔صوبائی حکومت کے ترجمان نے مزید کہا کہ لکپاس پر قانون نافذ کرنے والے محکموں کے اہلکار اختر مینگل کی گرفتاری کے لیے موجود ہیں۔ اس وقت بی این پی کی جانب سے قومی شاہراہوں کی بندش کی کال دینا شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کرنا ہے۔ تمام اضلاع کی انتظامیہ کو واضح ہدایت ہے کہ قومی شاہراہیں بند نہیں ہوں گی۔یاد رہے کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے صوبے میں دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا ہے، جس کے تحت بلوچستان بھر میں بیک وقت 4 یا 4 سے زائد افراد کے جمع ہونے، جلسہ ، جلوس کرنے یا دھرنے دینے پر پابندی عائد ہے۔ بی این پی مینگل کے رہنما ساجد ترین اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے کوئٹہ کی جانب لانگ مارچ کو نہ جانے دینے کے خلاف پیر کو پورے بلوچستان میں شٹر ڈان ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ادھر سردار اختر مینگل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم اس وقت لکپاس پر موجود ہیں، چاروں طرف سے سکیورٹی فورسز نے مکمل گھیرے میں لے رکھا ہے۔ میں احتجاج کے طور پر تمام اضلاع کی قومی شاہراہوں کو بند کرنے کی کال دیتا ہوں۔ تاکہ دنیا کو اس ناانصافی کے بارے میں معلوم ہو سکے۔ ہم پرامن ہیں لیکن پرعزم ہیں۔ اگر اس کے بعد کچھ بھی ہوا، خون بہا، نتائج نکلے، نقصان ہوا تو اس کی ذمہ داری صرف حکومتی اور مقامی انتظامیہ کے کندھوں پر ہوگی۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سابق رکن قومی اسمبلی آغا حسن بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعوی ٰکیا کہ کوئٹہ اور مستونگ کے درمیان سونا خان کے مقام پر پولیس نے لانگ مارچ کے شرکاء کے استقبال کے لیے کھڑے بی این پی کے کارکنوں پر تشدد کیا۔ آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج سے متعدد کارکن زخمی ہو گئے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے بی این پی کے کارکنوں کی بڑی تعداد کو گرفتار کر لیا ہے۔آغا حسن بلوچ نے کہا کہ کہ حکومتی ظلم و جبر کے خلاف آج پیر کو بلوچستان بھر میں شٹر ڈائون ہڑتال کی جائے گی ان کا کہنا تھا کہ شٹر ڈائون ہڑتال کی حمایت عوامی نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی کی ہے۔دریںاثناء بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ رکن قومی اسمبلی سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان سردار اختر جان مینگل اور دھرنے کے شرکاء کو کوئٹہ کی جانب لانگ مارچ کی اجازت نہ دینے کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ کی اپیل پر پارٹی کے ورکروں اور کارکنوں نے صوبے کے مختلف علاقوں میں قومی شاہراہوں کو بلاک کرکے احتجاج شروع کردیا جس سے ہر قسم کی ٹریفک معطل ہوگئی۔ قلات میں مغل چوک پر آغا قلندر جان احمد زئی اور سریاب میں فیض آباد، کیچی بیگ ، سریاب کسٹم، برمہ ہوٹل، چکی شاہوانی، مشرقی بائی پاس، قمبرانی روڈ اور دیگر علاقوں میں ٹائر جلاکر احتجاج کیاگیا۔ حب میں نیشنل پارٹی اور بی این پی کے کارکنوں نے روڈ بلاک کیا نوشکی میں آر سی ڈی شاہراہ سلطان چڑھائی ، خضدار ، حب بھوانی، قلات وڈھ، مستونگ لکپاس سمیت دیگر علاقوں میں بی این پی کے کارکنوں نے روڈ بلاک کرکے احتجاج کیا جس سے ہر قسم کی ٹریفک معطل ہوگئی ٹرانسپورٹروں اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔