وزیر اعظم وعدہ پورا کریں ورنہ دوبارہ احتجاج شروع کردیں گے: حافظ نعیم الرحمن

  ریلیف پیکیج حل نہیں، لیوی کا خاتمہ کیا جائے،   ہم ایک دن کے لئے بھی مطالبات سے دستبردار نہیں ہوئے، یہ بھتہ حکومت کو ختم کرنا پڑے گا
حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر ریلیف پیکیج کو زبردست قرار دے رہی ہے، ریلیف بھی سب کو نہیں مل پارہا ‘یہ صرف 20 سے 25 فیصد لوگوں کو مل رہا ہے
 7 اکتوبر2026 تک کا وقت اہل غزہ کے لئے مختص کیا ہے، اس کے بعد ہم آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے :میڈیا سے گفتگو
کراچی(آئی این پی )امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے فیول ریلیف پیکیج حل نہیں، لیوی کا خاتمہ کیا جائے، وزیر اعظم اپنا وعدہ پورا کریں ورنہ ہم دوبارہ ملتان سے کسی بھی وقت احتجاج کا سلسلہ شروع کردیں گے،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر 7 اکتوبر کے بعد اگلے مرحلے کا اعلان کر ینگے ۔ کراچی میں میڈیا سے گفتگو  کرتے ہوئے انہوں نے کہا وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ روانگی سے قبل امیر جماعت اسلامی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا جس میں انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ وہ وطن واپسی پر اس معاملے کو دیکھیں گے جس کے بعد حافظ نعیم الرحمان نے کراچی سے شروع ہونے والا لانگ مارچ  موخر کرنے کا اعلان کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف پیکیج کو زبردست قرار دے رہی ہے، ریلیف بھی سب کو نہیں مل پارہا یہ صرف 20 سے 25 فیصد لوگوں کو مل رہا ہے، پاکستان میں اڑھائی کروڑ موٹر سائیکل 40 لاکھ سے زائد گاڑیاں ہیں۔انہوں نے دعوی کیا کہ حکومت ریلیف دینے کے موڈ میں نہیں تھی، احتجاج اور دھرنے شروع ہوئے تو حکومت اس جانب آئی، اپوزیشن پارٹیاں عوامی حقوق کی بات نہیں کررہی۔امیر جماعت اسلامی کا مزید کہنا تھا کہ امیروں کے لئے الگ نظام بنالیں، بڑی گاڑیوں کے لئے فیول مہنگا کردیں، حکومت نے 26 ارب روپے ریلیف ماہانہ کا اعلان کیا مگر ڈیڑھ سو ارب ماہانہ وصول کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والوں کے لئے کوئی ریلیف نہیں، ریلیف پیکیج نہیں، لیوی کا خاتمہ اصل ریلیف ہے، ہم نے پوائنٹس بھی بتائے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہوگا۔حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا کہ ہم ایک دن کے لئے بھی ان مطالبات سے دستبردار نہیں ہوئے، یہ بھتہ حکومت کو ختم کرنا پڑے گا، ہم دوبارہ ملتان سے کسی بھی وقت احتجاج کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیں گے