انڈونیشیا کی جیلوں میں 10 پاکستانی قیدیوں کا انکشاف

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)انڈونیشیا کی جیلوں میں بھی دس پاکستانی قیدیوں کا انکشاف ہوا ہے۔یہ قیدی منشیات کی اسمگلنگ،منی لانڈرنگ،انسانی سمگلنگ میں ملوث ہیں ۔دستیاب دستاویز کے مطابق ایک قیدی ظہور الحسن پر بیوی کو قتل کرنے کا الزام ہے۔دس میں سے دو پاکستانی قیدیوں کو سزائے موت سنا دی گئی ہے۔پانچ قیدیوں کو اپنے کیسز میں سزا کا انتظار ہے۔ایک قیدی محمد رفیق کو منشیات سمگلنگ میں 17 سال قید کی سزا۔دستاویز کے مطابق محمد ریاض کو منشیات اور منی لانڈرنگ ثابت ہونے پر سزائے موت سنا دی گئی ۔فائق اختر اور گلزار شہباز کو منشیات سمگلنگ میں20، 20 سال قید ‘بشیر احمد کو منشیات کیس میں سزائے موت سنا دی گئی ہے اپیل پر فیصلے کا انتظار ہے۔سمیع اللہ،ظہور الحسن،جہانگیر شہزاد،حنیف الرحمان اور رحمت علی کو سزاؤں کا انتظار ہے۔وزارت خارجہ کے مطابق پاکستانی واپسی کیلیے انڈونیشیا کی حکومت کے ساتھ بات چیت جاری ہے، فضل عباس نامی پاکستانی شہری کی عدالتی فیصلے تک پاکستان واپسی روک دی گئی۔فضل عباس فروری تا اگست باندر اچے کی جیل میں بند رہے تھے۔ان پر فلسطین کیلئے چیریٹی سرگرمیوں کے نام پر پیٹنگز اور فن پاروں کی غیر قانونی فروخت کا الزام تھا۔