انجینیئر علی رضوان چودھری
ادب کسی بھی معاشرے کی روح کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ احساسات، خیالات اور اقدار کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ جب معاشرہ بگڑنے لگتا ہے، اخلاقی زوال کا شکار ہوتا ہے یا فکری انتشار پھیلنے لگتا ہے تو ادب ہی وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں روشنی بانٹتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے ہر بڑے سماجی انقلاب کے پیچھے کسی نہ کسی ادبی تحریک، فکر یا قلم کی طاقت کارفرما رہی ہے۔ادب کا بنیادی مقصد انسان کو انسان سے جوڑنا ہے۔ یہ ہمیں سوچنے، سمجھنے اور خود احتسابی پر مجبور کرتا ہے۔ ایک اچھی تحریر قاری کے دل پر دستک دیتی ہے، اس کے ضمیر کو جگاتی ہے اور اسے یہ احساس دلاتی ہے کہ وہ معاشرے کا ایک ذمہ دار فرد ہے۔ شاعر ہو یا افسانہ نگار، کالم نویس ہو یا محقق، ہر ادیب اپنے قلم کے ذریعے اصلاحِ معاشرہ کا فریضہ انجام دیتا ہے۔بدقسمتی سے آج کا معاشرہ جن مسائل کا شکار ہے ان میں عدم برداشت، خود غرضی، مادہ پرستی اور اخلاقی بے حسی سرفہرست ہیں۔ ایسے میں ادب کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ادیب کا کام صرف خوبصورت جملے تخلیق کرنا نہیں بلکہ سماج کی تلخ حقیقتوں کو اجاگر کرنا، برائی کو برائی کہنا اور اچھائی کی طرف رہنمائی کرنا بھی ہے۔ سچا ادب وہی ہے جو ظلم کے خلاف آواز بلند کرے اور مظلوم کے حق میں بولے۔اصلاحِ معاشرہ کے لیے ادب کو حقیقت پسند ہونا ضروری ہے۔ خواب دکھانا اچھی بات ہے مگر زمینی حقائق سے آنکھیں بند کر لینا ادبی دیانت کے خلاف ہے۔ ہمارے ادیبوں نے ہمیشہ اپنے دور کے مسائل کو موضوع بنایا۔ پریم چند نے کسان کی محرومی لکھی، منٹو نے سماج کی منافقت کو بے نقاب کیا، فیض نے جبر کے خلاف امید کا چراغ جلایا۔ یہی وہ ادب ہے جو آج بھی زندہ ہے اور دلوں پر اثر رکھتا ہے۔آج کے دور میں سوشل میڈیا نے تحریر کو عام آدمی تک پہنچا دیا ہے۔ یہ ایک بڑا موقع بھی ہے اور بڑا چیلنج بھی۔ اگر قلم ذمہ دار ہاتھوں میں ہو تو یہی پلیٹ فارم اصلاح کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے، لیکن اگر غیر سنجیدگی، نفرت اور جھوٹ کا سہارا لیا جائے تو یہی تحریر معاشرے کو مزید تقسیم کر دیتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ لکھنے والا اپنی سماجی ذمہ داری کو سمجھے۔ادب ہمیں برداشت سکھاتا ہے، مکالمہ سکھاتا ہے اور اختلاف کے باوجود ساتھ جینے کا ہنر دیتا ہے۔ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں مختلف آرا کو سنا جائے اور دلیل کے ساتھ بات کی جائے۔ یہ کام ادب سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا۔ ایک کہانی، ایک نظم یا ایک کالم وہ بات کہہ دیتا ہے جو بعض اوقات طویل تقاریر بھی نہیں کہہ پاتیں۔نوجوان نسل کی فکری تربیت میں بھی ادب کا کردار نہایت اہم ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان مثبت سوچ، اخلاقی اقدار اور سماجی شعور کے حامل ہوں تو ہمیں انہیں معیاری ادب سے جوڑنا ہوگا۔ کتاب سے رشتہ مضبوط ہوگا تو انتہا پسندی، مایوسی اور بے راہ روی خود بخود کم ہوتی جائے گی۔ ادب اور اصلاحِ معاشرہ ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ ادب کے بغیر اصلاح نامکمل ہے اور اصلاح کے بغیر ادب بے مقصد۔ قلم امانت ہے اور ادیب امین۔ اگر ہم نے اس امانت کا حق ادا کر دیا تو یقیناً ہمارا معاشرہ فکری، اخلاقی اور سماجی طور پر ایک بہتر سمت میں گامزن ہو سکتا،